ملفوظات (جلد 8) — Page 212
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۲ جلد هشتم طرف کا رہنے والا چند ٹکڑے پتھر کے یہاں لایا اور ظاہر کیا کہ وہ ہیرے کے ٹکڑے ہیں ۔ وہ پتھر بہت چمکیلے اور آبدار تھے۔ سیٹھ صاحب کو وہ پسند آگئے اور وہ ان کی قیمت میں پانسو روپیہ دینے کو طیار ہو گئے اور پچیس روپیہ یا کچھ کم و بیش ان کو دے بھی دیئے ۔ پھر اتفاقاً مجھ سے مشورہ کیا کہ میں نے یہ سودا کیا ہے ، آپ کی کیا رائے ہے۔ میں اگر چہ ان ہیروں کی شناخت اور اصلیت سے نا واقف تھا لیکن روحانی ہیرے جو دنیا میں کمیاب ہوتے ہیں یعنی پاک حالت کے اہل اللہ جن کے نام پر کئی جھوٹے پتھر یعنی مزور لوگ اپنی چمک دمک دکھا کر لوگوں کو تباہ کرتے ہیں ۔ اس جو ہر شناسی میں مجھے دخل تھا۔ اس لیے میں نے اس ہنر کو اس جگہ برتا اور سیٹھ صاحب کو کہا کہ جو کچھ آپ نے دیا ہے وہ تو واپس لینا مشکل ہے۔ لیکن میری رائے یہ ہے کہ پانسور و پیہ دینے سے پہلے کہ پہلے کسی اچھے اور قابل جو ہری کو یہ پتھر دکھلا لینے چاہئیں۔ اگر در حقیقت ہیرے ہوئے تو روپیہ دے دینا۔ چنانچہ وہ پتھر مدراس میں ایک جوہری کے شناخت کرنے کے لیے بھیجے گئے اور دریافت کیا گیا کہ ان کی کیا قیمت ہے۔ وہاں سے جواب آیا کہ یہ نرے پتھر ہیں ہیرے نہیں ہیں۔ اور اس طرح پر اس دھو کہ سے سیٹھ صاحب بچ گئے ۔ غرض بات یہ ہے کہ جس طرح دنیوی امور میں دھو کے لگ جاتے ہیں ۔ اسی طرح پر ان گدی نشینوں اور علماء کے دھو کے ہیں جو اس سلسلہ کی مخالفت میں مختلف قسم کی روکیں پیدا کرتے ہیں ۔ بہت سے لوگ جو سادہ دل ہوتے ہیں اور ان کو پوری واقفیت اس سلسلہ کی نہیں ہوتی ان کو دھو کہ لگ جاتا ہے اور وہ ناراستی کے دوست ہو جاتے ہیں ۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہی ہو تو انسان روحانی طور پر جو ہر شناس ہو جائیں ۔ بہت ہی کم لوگ ہوتے ہیں جو اس جو ہر کو شناخت کرتے ہیں ۔ - مجاہدہ اور دعا سے کام لیں بہر حال میرا مقصد اس سے یہ ہے کہ زرا بدیوں سے بچنا کوئی کمال نہیں ۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ اسی پر بس نہ کرے۔ نہیں بلکہ انہیں دونوں کمال حاصل کرنے کی سعی کرنی چاہیے ۔ جس کے لیے مجاہدہ اور دعا سے کام لیں ۔ یعنی بدیوں سے بچیں اور نیکیاں کریں ۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ خدا کو سادہ نہ سمجھ لے کہ وہ