ملفوظات (جلد 8) — Page 12
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۵ء (بمقام (دہلی) صبح حضرت نے فرمایا کہ الم جلد هشتم ایک رویا آج رات میں ۔ آج رات میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تھوڑے سے چنے بھونے ہوئے سفید ہیں اور ان کے ساتھ ہی منقہ بھی ہے۔ فرمایا۔ ہمارا تجربہ ہے کہ چنے ، مولی، بینگن یا پیاز خواب میں دیکھیں تو کوئی امر مکروہ پیش آتا ہے لیکن منقہ دل کو قوت دینے والی شے ہے اور اس کا دیکھنا اچھا ہے ۔ اس خواب سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی امر مکر وہ چھوٹا یا بڑا اور پیش ہے جو منقہ کی آمیزش سے وہ کراہت جاتی رہے گی۔ تنگی کے بعد فراخی آتی ہے فرمایا ۔ انسان کی زندگی کے ساتھ مکروہات کا سلسلہ بھی ہے لگا ہوا ہے۔ اگر انسان چاہے کہ میری ساری عمر خوشی میں گزرے تو یہ ہو نہیں سکتا ۔ فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ( أَلَمْ نَشْرَحْ : ۶، ۷ ) یہ زندگی کا چکر ہے۔ جب تنگی آوے تو ب تنگی آوے تو سمجھنا چاہیے کہ اس کے بعد فراخی بھی ضرور آئے گی ۔ لے او زیارت قبور صبح حضرت مسیح موعود مردانہ مکان میں تشریف لائے ۔ دہلی کے سیر کا ذکر درمیان میں آیا۔ فرمایا۔ لہو ولعب کے طور پر پھرنا تو درست نہیں ۔ البتہ یہاں بعض بزرگ اولیاء اللہ کی قبریں ہیں ان پر ہم بھی جائیں گے ۔ وو لے الحکم سے ۔ اور اصل بات یہ ہے کہ تنگیوں اور تکلیفوں کا زمانہ ہی انسان کو انسان اور بندہ بنا تا ہے ورنہ اگر کوئی غم ہم نہ ہو تو انسان خدا سے بالکل دور چلا جاوے۔ مومن کی شان اس سے نرالی ہے وہ جس جس قدر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو دیکھتا اور اس کے انعامات کو پاتا ہے اسی قدر وہ اس کے قریب ہوتا ہے اور اپنی وفاداری اور اخلاق و اخلاص الحکم جلد ۱۰ نمبر ۸ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۶ صفحه ۲) میں زیادہ ترقی کرتا ہے۔“ 66