ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 206

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۶ جلد هشتم غرض پہلی حالت تو وہ کافوری شربت کی تھی اور دوسرا مرحلہ زنجبیلی شربت کا ہے۔ چنانچہ فرما یا يُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيلًا ( الدهر : ۱۸) اور ایسے جام انہیں پلائے جاتے ہیں قَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِنَ جوز نجبیلی شربت کے ہوتے ہیں۔ بلند روحانی مراتب حاصل کرنا انسان کے لئے ناممکن نہیں انسان کو یہ بھی خیال نہیں کرنا چاہیے کہ ایسا مرتبہ حاصل ہونا نا ممکن ہے ۔ یہ سب کچھ مل سکتا ہے اور ملتا ہے۔ جن لوگوں نے یہ مراتب اور مدارج حاصل کئے وہ بھی تو آخر انسان ہی تھے ۔ اصل بات یہ ہے کہ جب انسان کے سامنے اس کے جرائم کی ایک نبی فہرست ہوتی ہے تو وہ اسے دیکھ کر گھبرا جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ان سے بچنا مشکل ہے۔ مگر یہ اس کی انسانی کمزوری کا نتیجہ ہے۔ بہت سے لوگ یورپ میں بھی اس خیال کے موجود ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کا فقط اتنا ہی منشا ہے کہ انسان سے یہ اقرار کرایا جاوے کہ وہ ان کی تعلیم پر عمل کرنے کے نا قابل ہے یا اس پر قادر نہیں۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت سے محض نا واقف ہیں اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر غور نہیں کیا ۔ اگر وہ خود انسان کی اپنی حالت اور ان انقلابات پر ہی غور کرتے جن کے اندر سے وہ گذرا ہے تو اس قسم کا کلمہ منہ سے نہ نکالتے ۔ مگر ان کے علم اور معرفت کی کمزوری نے انہیں ایسا خیال کرنے کا موقع دیا۔ دیکھو! انسان پر کس قدر انقلاب آئے ہیں۔ ایک زمانہ انسان پر وہ گذرا ہے کہ وہ صرف نطفہ کی حالت میں تھا اور وہ وہ حالت تھی کہ کچھ بھی چیز نہ تھا۔ اگر زمین یا کپڑے پر گرتا تو چند منٹ کے اندر خشک ہو جاتا۔ پھر علقہ بنا اس میں ذرا بستگی پیدا ہوئی اس وقت بھی اس کی کچھ ہستی نہ تھی۔ پھر مضغہ ہوا۔ پھر ایک اور زمانہ آیا کہ جنین کی صورت میں اس میں جان آئی۔ بعد اس کے پیدا ہوا پھر شیر خوار سے بلوغ تک پہنچا۔ وغیرہ وغیرہ۔