ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 203

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۳ جلد هشتم بدیوں کے لیے تحریک اور جوش پیدا نہیں ہوتا۔ ایک شخص کے دل میں یہ خیال تو آجاتا ہے کہ یہ کام اچھا نہیں یہاں تک کہ چور کے دل میں بھی یہ خیال آہی جاتا ہے مگر جذ بہ دل سے وہ چوری بھی کر ہی لیتا ہے۔ لیکن جن لوگوں کو شربت کا فوری پلا دیا جاتا ہے ان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ ان کے دل میں بدی کی تحریک ہی پیدا نہیں ہوتی بلکہ دل بڑے کاموں سے بیزار اور متنفر ہوجاتا ہے گناہ کی تمام تحریکوں کے مواد د با دیئے جاتے ہیں۔ یہ بات خدا تعالیٰ کے فضل کے سوا میسر نہیں آتی ۔ جب ان دعا اور عقد ہمت سے خدا تعالیٰ کے فضل کو تلاش کرتا ہے اور اپنے نفس کے جذبات پر غالب آنے کی سعی کرتا ہے تو پھر یہ سب باتیں فضل الہی کو کھینچ لیتی ہیں اور اسے کا فوری جام پلایا جاتا ہے جو لوگ اس قسم کی تبدیلی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں زمرہ ابدال میں داخل فرماتا ہے اور یہی تبدیلی ہے جو ابدال کی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ بھی عموماً دیکھا گیا ہے کہ اکثر لوگ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے جب اس قسم کی باتوں کو سنتے ہیں تو ان کے دل متاثر ہو جاتے ہیں اور وہ اچھا بھی سمجھتے ہیں۔ لیکن جب اس مجلس سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے احباب اور دوستوں سے ملتے ہیں تو پھر وہی رنگ ان میں آجاتا ہے اور ان سنی ہوئی باتوں کو یکدم بھول جاتے ہیں اور وہی پہلا طر ز عمل اختیار کرتے ہیں ۔ اس سے بچنا چاہیے۔ جن صحبتوں اور مجلسوں میں ایسی باتیں پیدا ہوں ان سے الگ ہو جانا ضروری ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی یا د رکھنی چاہیے کہ ان تمام بری باتوں کے اجزاء کا علم ہو۔ کیونکہ طلب شے کے لیے علم کا ہونا سب سے اول ضروری ہے ۔ جب تک کسی چیز کا علم نہ ہوا سے حاصل کیونکر کر سکتے ہیں؟ قرآن شریف نے بار بار تفصیل دی ہے پس بار بار قرآن شریف کو پڑھو۔ اور تمہیں چاہیے کہ بڑے کاموں کی تفصیل لکھتے جاؤ۔ اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل اور تائید سے کوشش کرو کہ ان بدیوں سے بچتے رہو۔ یہ تقویٰ کا پہلا مرحلہ ہوگا ۔ جب تم ایسی سعی کرو گے تو اللہ تعالیٰ پھر تمہیں توفیق دے گا اور وہ کا فوری شربت تمہیں دیا جاوے گا جس سے تمہارے گناہ کے جذبات بالکل سرد ہو جائیں گے۔ اس کے بعد نیکیاں ہی سرزد ہوں گی ۔ جب تک انسان متقی نہیں بنتا یہ جام اسے نہیں دیا جاتا اور نہ اس کی