ملفوظات (جلد 8) — Page 190
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۰ جلد هشتم پس یہ بھی کوشش مت کرو کہ تمہارے قومی جاتے رہیں بلکہ ان قومی کا صحیح استعمال سیکھو۔ یہ سب جھوٹے اور خیالی عقائد ہیں قرآن کریم اور انجیل کی اخلاقی تعلیم کا موازنہ جو کہتے ہیں کہ ہماری تعلیم یہ ہے کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دو ممکن ہے یہ تعلیم اس وقت قانون مختص المکان اور مختص الزمان کی طرح ہو۔ ہمیشہ کے لیے یہ قانون نہ کبھی ہو سکتا ہے اور نہ یہ چل سکتا ہے۔ اس لیے کہ انسان ایک ایسے درخت کی طرح ہے جس کی شاخیں چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ اگر اس کی ایک ہی شاخ کی پروا کی جاوے تو باقی شاخیں تباہ اور برباد ہو جائیں گی ۔ عیسائی مذہب کی اس تعلیم میں جو نقص ہے وہ بخوبی ظاہر ہے۔ اس سے انسان کے تمام قومی کی نشو و نما کیونکر ہو سکتی ہے۔ اگر صرف در گذر ہی ایک عمدہ چیز ہوتی تو پھر انتظامی قوت اس کی قوتوں میں کیوں رکھی گئی ہے؟ اور کیوں پھر اس درگذر کی تعلیم پر عمل نہیں کیا جاتا ؟ مگر برخلاف اس کے کامل تعلیم وہ ہے جو اسلام نے پیش کی اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہم کو ملی ہے اور وہ یہ ہے جَزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللهِ (الشوری: ۴۱ ) یعنی بدی کی جزا اسی قدر بدی ہے جو کی گئی ہو۔ لیکن جو شخص گناہ کو بخش دے اور ایسے موقعہ پر بخش دے کہ اس سے کوئی اصلاح ہوتی ہو، کوئی شر پیدا نہ ہوتا ہو تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے۔ اس سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا ہرگز یہ منشا نہیں کہ خواہ نخواہ ضرور ہر مقام پر شر کا مقابلہ نہ کیا جاوے اور انتقام نہ لیا جاوے بلکہ منشاء الہی یہ ہے کہ محل اور موقعہ کو دیکھنا چاہیے کہ آیا وہ موقع گناہ کے بخش دینے اور معاف کر دینے کا ہے یا سزا دینے کا۔ اگر اس وقت سزا دینا ہی مصلحت ہو تو اس قدر سزا دی جاوے جو سزاوار ہے اور اگر عفو کا محل ہے تو سزا کا خیال چھوڑ دو۔ یہ خوبی ہے اس تعلیم میں کیونکہ وہ ہر پہلو کا لحاظ رکھتی ہے۔ اگر انجیل پر عمل کر کے ہر شریر اور بدمعاش کو چھوڑ دیا جاوے تو دنیا میں اندھیر بچ جاوے۔ پس تم ہمیشہ یہی خیال رکھو کہ تمام قومی کو مردہ مت تصور کرو۔ تمہاری کوشش یہ ہو کہ محل پر استعمال کرو۔ میں یقیناً کہتا ہوں کہ یہ تعلیم ایسی ہے جس نے