ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 188

ملفوظات حضرت مسیح موعود کے تکلفات کو چھوڑتا ہے۔ لے ۱۸۸ جلد هشتم اور پھر فرمایا قَدْ خَابَ مَنْ دَسْهَا (الشمس ( 11 ) مٹی کے برابر ہو گیا وہ شخص جس نے نفس کو آلودہ کر لیا یعنی جو زمین کی طرف جھک گیا۔ گویا یہ ایک ہی فقرہ قرآن کریم کی ساری تعلیمات کا خلاصہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کس طرح خدا تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔ یہ بالکل سچی اور پکی بات ہے کہ جب تک انسان قومی بشریہ کے بڑے طریق کو نہیں چھوڑتا اس وقت تک خدا نہیں ملتا۔ دنیا کی گندگیوں سے نکلنا چاہتے ہو اور خدا تعالیٰ کو ملنا چاہتے ہو تو ان لذات کو ترک کر دور نہ ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دوں این خیال است و محال است و جنوں انسان کی فطرت میں دراصل بدی نہ تھی اور نہ کوئی چیز بری ہے لیکن بد استعمالی بری بنا دیتی رہا ہے۔ مثلاً ریا ہی کولو یہ بھی در اصل بری نہیں کیونکہ اگر کوئی کام محض خدا تعالی کے لیے کرتا ہے اور اس لیے کرتا ہے کہ اس نیکی کی تحریک دوسروں کو بھی ہو تو یہ ریا بھی نیکی ہے۔ ریا کی دوقسمیں ہیں۔ ایک دنیا کے لیے مثلاً کوئی شخص نماز پڑھا رہا ہے اور پیچھے کوئی بڑا آدمی آگیا اس کے خیال اور لحاظ سے نماز کو لنبا کرنا شروع کر دیا۔ ایسے موقع پر بعض آدمیوں پر ایسا رعب پڑ جاتا ہے کہ وہ پھول پھول جاتے ہیں۔ یہ بھی ایک قسم ریا کی ہے جو ہر وقت ظاہر نہیں ہوتی مگر اپنے وقت پر جیسے بھوک کے وقت روٹی کھاتا ہے یا پیاس کے وقت پانی پیتا ہے۔ مگر برخلاف اس کے جو شخص محض اللہ تعالیٰ کے لیے نماز کو سنوار سنوار کر پڑھتا ہے وہ ریا میں داخل نہیں ۔ بلکہ رضاء الہی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ غرض ریا کے بھی محل ہوتے ہیں۔ اور انسان ایسا جانور ہے کہ بے محل عیوب پر نظر نہیں کرتا ۔ مثلاً ایک شخص اپنے آپ کو بڑا عفیف اور پارسا سمجھتا ہے راستہ میں اکیلا جا رہا ہے۔ راستہ میں وہ ایک تھیلی جواہرات کی پڑی پاتا ہے وہ اسے دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ مداخلت کی کوئی بات نہیں۔ کوئی دیکھتا نہیں اگر یہ اس وقت اس پر گرتا نہیں اور سمجھتا ہے کہ غیر کا حق ہوگا اور روپیہ جو گرا جس نے دین کو مقدم کیا وہ خدا کے ساتھ مل گیا۔ نفس کو خاک کے ساتھ ملا دینا چاہیے۔خدا کو ہر بات بدر ہے۔ میں مقدم کرنا چاہیے۔ یہی دین کا خلاصہ ہے جتنے بڑے طریق ہیں ان سب کو ترک کر دینا چاہیے۔ تب خدا ملتا ہے۔“ ( بدر جلد ۲ نمبر ۶ مورخه ۹ فروری ۱۹۰۶ صفحه (۳)