ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 175

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۵ جلد هشتم عقیدہ سے بہت بڑا ضر ر ا ٹھا یا ہے یہاں تک کہ ۴۰ کروڑ کے قریب لوگ عیسائی ہو چکے جو سچے خدا کو چھوڑ کر ایک عاجز انسان کو خدا بنا رہے ہیں اور عیسائیت نے دنیا کو جو نفع پہنچایا ہے وہ ظاہر امر ہے خود عیسائیوں نے اس امر کو قبول کیا ہے کہ عیسائیت کے ذریعہ بہت سی بداخلاقیاں دنیا میں پھیلی ہیں کیونکہ جب انسان کو تعلیم ملے کہ اس کے گناہ کسی دوسرے کے ذمہ ہو چکے تو وہ گناہ کرنے پر دلیر ہو جاتا ہے اور گناہ نوعِ انسان کے لیے ایک خطرناک زہر ہے جو عیسائیت نے پھیلائی ہے۔ اس صورت میں اس عقیدہ کا ضر ر اور بھی بڑھا جاتا ہے۔ حیات مسیح کے وفات مسیح کے مسئلہ کو مشیت ایزدی نے مخفی رکھا میں یہ نہیں کہتا کہ حیات متعلق اسی زمانہ کے لوگوں پر الزام ہے۔ نہیں بعض پہلوں نے غلطی کھائی ہے۔ مگر وہ تو اس غلطی میں بھی ثواب ہی پر رہے۔ کیونکہ مجتہد کے متعلق لکھا ہے قَدْ يُخطى وَ يُصِيبُ کبھی مجتہد غلطی بھی کرتا ہے اور کبھی صواب ۔ مگر دونوں طرح پر اسے ثواب ہوتا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ مشیت ایزدی نے یہی چاہا تھا کہ ان سے یہ معامل مخفی رہے۔ پس وہ غفلت میں رہے اور اصحاب کہف کی طرح یہ حقیقت ان پر مخفی رہی جیسا کہ مجھے بھی الہام ہوا تھا ام حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحُبَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ ايْتِنَا عَجَبًا اسی طرح مسیح کی حیات کا مسئلہ بھی ایک عجیب سر ہے۔ باوجود یکہ قرآن شریف کھول کھول کر مسیح کی وفات ثابت کرتا ہے اور احادیث سے بھی یہی ثابت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر جو آیت استدلال کے طور پر پڑھی گئی وہ بھی اسی کو ثابت کرتی ہے ۔ مگر باوجود اس قدر آشکارا ہونے کے خدا تعالیٰ نے اس کو مخفی کر لیا اور آنے والے موعود کے لیے اس کو مخفی رکھا چنانچہ جب وہ آیا تو اس نے اس راز کو ظاہر کیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ وہ جب چاہتا ہے کسی بھید کو خفی کر دیتا ہے اور جب چاہتا ہے اسے ظاہر کر دیتا ہے۔ اسی طرح اس نے اس بھید کو اپنے وقت تک مخفی رکھا مگر اب جبکہ آنے والا آ گیا اور اس کے ہاتھ میں اس : اس سر کی کلید تھی اس نے اسے کھول کر دکھا دیا۔ اب اگر کوئی نہیں مانتا اور ضد کرتا