ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 173

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۳ جلد هشتم رہا ہے اور کرے گا جیسا کہ فرمایا ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ (الحجر : ١٠) یعنی بے شک ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے ۔ اِنَّا لَهُ لَحٰفِظُونَ کا لفظ صاف طور پر دلالت کرتا ہے کہ صدی کے سر پر ایسے آدمی آتے رہیں گے جو گمشدہ متاع کو لائیں اور لوگوں کو یاد دلائیں۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب پہلی صدی گزر جاتی ہے تو پہلی نسل بھی اٹھ جاتی ہے اور اس نسل میں جو عالم ، حاف عالم، حافظ قرآن ، اولیاء اللہ اور ابدال ہوتے ہیں وہ فوت ہو جاتے ہیں۔ اور اس طرح پر ضرورت ہوتی ہے کہ احیاء ملت کے لیے کوئی شخص پیدا ہو کیونکہ اگر دوسری صدی میں نیا بندوبست اسلام کے تازہ رکھنے کے لیے نہ کرے تو یہ مذہب مر جاوے۔ اس لیے وہ ہر صدی کے سر پر ایک شخص کو مامور کرتا ہے جو اسلام کو مرنے سے بچا لیتا ہے اور اس کو نئی زندگی عطا کرتا ہے اور دنیا کو ان غلطیوں، بدعات اور غفلتوں اور مستیوں سے بچا لیتا ہے جو ان میں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ خصوصیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو حاصل ہے اور یہ آپ کی حیات کی ایسی زبردست دلیل ہے کہ کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس طرح پر آپ کے برکات و فیوض کا سلسلہ لا انتہا اور غیر منقطع ہے اور ہر زمانہ میں گویا امت آپ کا ہی فیض پاتی ہے اور آپ ہی سے تعلیم حاصل کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی محب بنتی ہے جیسا کہ فرمایا ہے اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران : ۳۲) پس خدا تعالیٰ کا پیار ظاہر ہے کہ اس امت کو کسی صدی میں خالی نہیں چھوڑتا۔ اور یہی ایک امر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات پر روشن دلیل ہے۔ بالمقابل حضرت عیسی کی حیات ثابت نہیں ۔ ان کی زندگی ہی میں ایسا فتنہ برپا ہوا کہ کسی اور نبی کی زندگی میں وہ فتنہ نہیں ہوا۔ اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو حضرت عیسیٰ سے مطالبہ کرنا پڑا کہ وَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَ أُمِّيَ الْهَيْنِ (المائدة: ١١٧) یعنی کیا تو نے ہی کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنا لو۔ جو جماعت حضرت عیسیٰ نے تیار کی وہ ایسی کمزور اور نا قابل اعتبار تھی کہ خود یہی عیسائی بھی اس کا اقرار کرتے ہیں۔ انجیل سے ثابت ہے کہ وہ بارہ شاگرد جوان کی خاص قوت قدسی صحابہ اور حواریوں کا موازنہ او تاخیر کا نمونہ تھے۔ ان میں سے ایک نے جس کا نام