ملفوظات (جلد 8) — Page 171
ملفوظات حضرت مسیح موعود اا جلد هشتم مسیح کی موت بقول ان مخالف مسلمانوں کے ثابت نہیں کیونکہ توفی کے معنے تو آسمان پر زندہ اٹھائے جانے کے کرتے ہو۔ اس لیے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي (المائدة : (۱۱۸) میں بھی یہی معنے کرنے پڑیں گے کہ جب تو نے مجھے زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ اور کوئی آیت ثابت نہیں کرتی کہ اس کی موت بھی ہوگی ۔ پھر بتاؤ کہ ان کا نتیجہ کیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے اور وہ اپنی غلطی کو سمجھیں۔ میں سچ کہتا ہوں کہ جو لوگ مسلمان کہلا کر اس عقیدہ کی کمزوری اور شناعت کے کھل جانے پر بھی اس کو نہیں چھوڑتے وہ دشمن اسلام اور اس کے لیے مار آستیں ہیں ۔ ۔ یا درکھو! اللہ تعالیٰ بار بار قرآن شریف میں مسیح کی موت کا ذکر کرتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ وہ دوسرے نبیوں اور انسانوں کی طرح وفات پاچکے۔ کوئی امران میں ایسا نہ تھا جو دوسرے نبیوں اور انسانوں میں نہ ہو۔ یہ بالکل سچ ہے کہ توفی کے موت ہی معنے ہیں ۔ کسی لغت سے یہ ثابت نہیں کہ توفی کے معنے کبھی آسمان پر مع جسم اٹھانے کے بھی ہوتے ہیں۔ زبان کی خوبی لغات کی توسیع پر ہے۔ دنیا میں کوئی لغت ایسی نہیں ہے جو صرف ایک کے لیے ہو اور دوسرے کے لیے نہ ہو ۔ ہاں خدا تعالیٰ کے لیے یہ خصوصیت ضرور ہے اس لیے کہ وہ وحدہ لاشریک خدا ہے۔ لغت کی کوئی کتاب پیش کرو جس میں توفی کے یہ معنے خصوصیت سے حضرت عیسی کے لیے کہے ہوئے ہوں کہ زندہ آسمان پر مع جسم اٹھانا ہے اور سارے جہان کے لیے جب یہ لفظ استعمال ہو تو اس کے معنے موت کے ہوں گے اس قسم کی خصوصیت لغت کی کسی کتاب میں دکھاؤ۔ اور اگر نہ دکھا سکو اور نہیں ہے تو پھر خدا تعالیٰ سے ڈرو کہ یہ مبدا شرک ہے۔ اس غلطی ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان عیسائیوں کے مدیون ٹھیرتے ہیں۔ اگر عیسائی یہ کہیں کہ جس حال میں تم مسیح کو زندہ تسلیم کرتے ہو کہ وہ آسمان پر ہے اور پھر اس کا آنا بھی مانتے ہو اور یہ بھی کہ وہ حکم ہو کر آئے گا ۔ اب بتاؤ کہ اس کے خدا ہونے میں کیا شبہ رہا جبکہ یہ بھی ثابت نہ ہو کہ اس کو موت ہوگی یہ کہنا بڑا مصیبت کا امر ہو کہ عیسائی سوال کرے اور اس کا جواب نہ ت انسا ہو۔ غرض اس غلطی کا اثر بداب یہاں تک بڑھ گیا۔ یہ تو سچ ہے کہ دراصل مسیح کی موت کا مسئلہ ایسا عظیم الشان نہ تھا کہ اس کے لیے ایک عظیم الشان مامور کی ضرورت ہوتی ۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ