ملفوظات (جلد 8) — Page 169
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۹ جلد هشتم مگر نہیں ہوا اور یہ غلطی چلی آئی اور ہمارا زمانہ آگیا۔ اس وقت بھی اگر نری اتنی ہی بات ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک سلسلہ پیدا نہ کرتا کیونکہ وفات مسیح ایسی بات تو تھی ہی نہیں جو پہلے کسی نے تسلیم نہ ہے جوال جو کی ہو۔ پہلے سے بھی اکثر خواص جن پر اللہ تعالیٰ نے کھول دیا یہی مانتے چلے آئے مگر بات کچھ اور دیا چلے اور اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کیا۔ یہ سچ ہے کہ مسیح کی وفات ے کی غلطی کو دور کرنا بھی اس سلسلہ کی بہت بڑی غرض تھی۔ لیکن صرف اتنی ہی بات کے لیے خدا تعالیٰ نے مجھ کو کھڑا نہیں کیا بلکہ بہت سی باتیں ایسی پیدا ہو چکی تھیں اگر ان کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ ایک سلسلہ قائم کر کے کسی کو مامور نہ کرتا تو دنیا تباہ ہو جاتی اور اسلام کا نام و نشان مٹ جاتا ۔ اس لیے اسی مقصد کو دوسرے پیرا یہ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہماری بعثت کی غرض کیا ہے؟ حیات مسیح کافتنہ وفات عیسی اورحیات اسلامی دونوں مقاصد باہم بہت بڑا حلق کہتے ہیں اور وفات مسیح کا مسئلہ اس زمانہ میں حیات اسلام کے لیے ضروری ہو گیا ہے۔ اس لیے کہ حیات مسیح سے جو فتنہ پیدا ہوا ہے وہ بہت بڑھ گیا ہے ۔ حیات مسیح کے لیے یہ کہنا کہ کیا اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں کہ ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لے جاتا؟ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی ہے سے ناواقفی کو ظاہر کرتا ہے۔ ہم تو سب سے زیادہ اس بات پر ایمان لاتے اور یقین کرتے ہیں ان اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (البقرة : ٢١ ) ۔ اللہ تعالیٰ بے شک ہر بات پر قادر ہے اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ بیشک وہ جو کچھ چاہے کر سکتا ورہم کہ وہ جو ہے۔ لیکن وہ ایسے امور سے پاک اور منزہ ہے جو اس کی صفات کاملہ کے خلاف ہوں اور وہ ان باتوں کا دشمن ہے جو اس کے دین کے مخالف ہوں ۔ حضرت عیسیٰ کی حیات اوائل میں تو صرف ایک غلطی کا رنگ رکھتی تھی مگر آج یہ غلطی ایک اژدھا بن گئی ہے جو اسلام کو نگلنا چاہتی ہے۔ ابتدائی زمانہ میں اس غلطی سے کسی گزند کا اندیشہ نہ تھا اور وہ غلطی ہی کے رنگ میں تھی۔ مگر جب سے عیسائیت کا خروج ہوا اور انہوں نے مسیح کی زندگی کو ان کی خدائی کی ایک بڑی زبردست دلیل قرار دیا تو یہ لے سہو کتابت ہے مسیح کی حیات کی غلطی ہونا چاہیے۔ (مرتب) ے اس جگہ کتابت کی غلطی سے کوئی لفظ رہ گیا ہے ۔ (مرتب)