ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 158

ملفوظات حضرت مسیح موعود طیاری بھی یہاں ہی ہوتی ہے۔ ۱۵۸ جلد هشتم دین کو دنیا پر مقدم کر کے وصیت کرنے کی تلقین عرصہ ہوا کہ خدا تعالی نے مجھ پر ظاہر کیا تھا کہ ایک بہشتی مقبرہ ہوگا۔ گویا اس میں وہ لوگ داخل ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے علم وارادہ میں جنتی ہیں۔ پھر اس کے متعلق الہام ہوا أُنزِلَ فِيهَا كُلُّ رَحْمَةٍ ۔ اس سے کوئی نعمت اور رحمت باہر نہیں رہتی ۔ اب جو تو جو شخص چاہتا ہے کہ وہ ایسی رحمت کے نزول کی جگہ میں دفن ہو ۔ کیا عمدہ موقع ہے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کر لے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کو اپنی مرضی پر مقدم کرے۔ یہ صدی جس کے ۲۳ سال گذرنے کو ہیں گزر جائے گی اور اس کے آخر تک موجودہ نسل میں سے کوئی نہ رہے گا اور اگر نکما ہو کر رہا تو کیا فائدہ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اپنا صدقہ پہلے بھیجو۔ یہ لفظ صدقہ کا صدق سے لیا گیا ہے ۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوئی کامل نمونہ اپنے صدق اور اخلاص کا نہیں دکھا تالاف زنی سے کچھ بن نہیں سکتا ۔ الوصیۃ اشتہار میں جو میں نے حصہ جائداد کی اشاعت اسلام کے لیے وصیت کرنے کی قید لگائی ہے۔ میں نے دیکھا کہ کل بعض نے ۶ را کی کر دی ہے۔ یہ صدق ہے جو ان سے کراتا ہے اور جب تک صدق ظاہر نہ ہو کوئی مومن نہیں کہلا سکتا ۔ تم اس بات کو کبھی مت بھولو کہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کے بغیر جی ہی نہیں سکتے چہ جائیکہ موت سر پر ہو۔ طاعون کا موسم پھر آرہا ہے۔ زلزلہ کا خوف الگ دامنگیر ہے۔ وہ تو بڑا ہی بے وقوف ہے جو اپنے آپ کو امن میں سمجھتا ہے امن میں تو وہی ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا سچا فرمانبردار اور اس کی رضا کا جو یاں ہے۔ ایسی حالت میں بے بنیاد زندگی کے ساتھ دل لگانا کیا فائدہ؟ سلسلہ کے قیام اور وصیت قیام اور وصیت کی غرض دوسری طرف اسلام سخت اور خطر ناک ضعف کی حالت میں ہے۔ اس پر یہی آفت اور مصیبت نہیں کہ باہر والے اس پر حملے کر رہے ہیں اگر چہ یہ بالکل سچ ہے کہ مخالف سب کے سب مل کر ایک ہی کمان سے تیر مار رہے ہیں اور جہاں تک ان سے ہو سکتا ہے وہ اس کے مٹا دینے کی سعی اور فکر کرتے