ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 153

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۳ جلد هشتم زیر ہدایت نہیں ہے بلکہ فطرت کا ایک طبعی خاصہ ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ یہاں مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ عام ہے۔ اس سے کوئی خاص شے روپیہ پیسہ یا روٹی کپڑا مراد نہیں ہے بلکہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ غرض یہ انفاق عام انفاق ہے اور اس کے لیے مسلمان یا غیر مسلمان کی بھی شرط نہیں اور اس لیے یہ انفاق دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک فطرتی دوسرازیر اثر نبوت ۔ فطرتی تو وہی ہے جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ تم میں سے کون ہے اگر کوئی قیدی یا بھو کا آدمی جو کئی روز سے بھوکا ہو یا ننگا ہو آ کر سوال کرے اور تم اسے کچھ نہ کچھ دے نہ دو۔ کیونکہ یہ امر فطرت میں داخل ہے۔ اور یہ بھی میں نے بتا دیا ہے کہ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ روپیہ پیسہ سے مخصوص نہیں خواہ جسمانی ہو یا علمی سب اس میں داخل ہے۔ جو علم سے دیتا ہے وہ بھی اسی کے ماتحت ہے۔ مال سے دیتا ہے وہ بھی داخل ہے۔ طبیب ہے وہ بھی داخل ہے۔ للبي وقف کا مقام مگر بموجب مشاهدی للمتقین ابھی تک اس مقام تک نہیں پہنچا جہاں لِلْمُتَّقِينَ قرآن شریف اسے لے جانا چاہتا ہے اور وہ وہ مقام ہے کہ انسان اپنی زندگی ہی خدا تعالیٰ کے لیے وقف کر دے۔ اور یہ لبی وقف کہلاتا ہے۔ اس حالت اور مقام پا اور مقام پر جب ایک شخص پہنچتا ہے تو اس میں منا رہتا ہی نہیں ۔ کیونکہ جب تک وہ میا کی حد کے اندر ہے اس وقت تک وہ ناقص ہے اور اس علت غائی تک نہیں پہنچا جو قرآن مجید کی ہے لیکن کامل اسی وقت ہوتا ہے جب یہ حد نہ رہے اور اس کا وجود اس کا ہر فعل ہر حرکت و سکون محض اللہ تعالیٰ کے حکم اور اذن کے ماتحت بنی نوع کی بھلائی کے لیے وقف ہو۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہو کہ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ کا کمال یہی ہے جو هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کے منشا کے موافق ہے ۔ اے منتقلی کی چوتھی صفت اس کے بعد ایک اور صفت متقیوں کی بیان کی یعنی وہ وَالَّذِینَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ كے موافق ایمان لاتے ہیں اور ایسا ہی جو کچھ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۶ ء صفحه ۴، ۵