ملفوظات (جلد 8) — Page 140
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۰ جلد هشتم تھا۔ غرض ایسے اعتراضات چونکہ آجکل ہوتے ہیں اس لیے ضروری امر ہے کہ ان علوم میں کچھ نہ کچھ دسترس ضرور ہو۔ ایسا ہی بعض لوگ یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن شریف گردش آسمان کا قائل ہے جیسے فرمایا وَ السَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجُعِ ( الطارق : (۱۲) حالانکہ آجکل کے بچے بھی جانتے ہیں کہ زمین گردش کرتی ہے۔ غرض اسی قسم کے بیسیوں اعتراض کر دیتے ہیں اور تا وقتیکہ ان علوم میں کچھ مہارت اور واقفیت نہ ہو جواب دینے میں مشکل پیدا ہوتی ہے۔ یہ امر یا درکھنا چاہیے کہ زمین یا آسمان کی گردش ظنی امور ہیں ان کو یقینیات میں داخل نہیں کر سکتے ۔ ایک زمانہ تک گردش آسمان کے قائل رہے پھر زمین کی گردش کے قائل ہو گئے ۔ سب سے زیادہ ان لوگوں کی طبابت پر مشق ہے لیکن اس میں بھی دیکھ لو کہ آئے دن تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے ۔ مثلاً پہلے ذیا بیطس کے لیے یہ کہتے تھے کہ اس کے مریض کو میٹھی چیز نہیں کھانی چاہیے مگر اب جو تحقیقات ہوئی ہے تو کہتے ہیں کچھ حرج نہیں اگر سنگترہ بھی مریض کھالے یا چاء پی لے۔ غرض یہ سب علوم ظنی ہیں اس موقع پر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ کے معنے بتا دیئے جاویں۔ کیونکہ اس کا ذکر آ گیا ہے۔ سو یا د رکھنا چاہیے کہ سماء کے معنے آسمان ہی کے نہیں ہیں بلکہ سماء مینہ کو بھی کہتے ہیں ۔ گویا اس آیت میں اس مینہ کی جو زمین کی طرف رجوع کرتا ہے قسم کھائی ہے اور پھر وہ زمین جس سے شگوفے نکلتے ہیں۔ اکیلی زمین اور اکیلا آسمان کچھ نہیں کر سکتا۔ وحی الہی کی ضرورت پر ایک عقلی دلیل اس آیت کو اللہ تعالی ضرورت وحی پر بطور مثال پیش کرتا ہے کہ ہر چند زمین میں جو جو ہر قابل ہوں اور اس کی فطرت میں نشو ونما کا مادہ ہو لیکن وہ مادہ نشو و نما نہیں پا سکتا اور وہ فطرت بار آور نہیں ہو سکتی جب تک آسمان سے مینہ نہ برسے ۔ باران که در لطافت طبعش خلاف نیست در باغ لاله رویدد در شوره بوم و خس