ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 138

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۸ جلد هشتم ہوئے تھے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ان کو فرماتا ہے لَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ ( التوبة : ١٢٢) یعنی ایسے لوگ ہونے چاہئیں جو تفقہ فی الدین کریں یعنی جو دین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے اس میں تفقہ کر سکیں ۔ یہ نہیں کہ طوطے کی طرح یاد ہو اور اس میں غور وفکر کی مطلق عادت اور مذاق ہی نہ ہو۔ اس سے وہ غرض حاصل نہیں ہو سکتی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے اور و ہی غرض ہماری ہے یعنی محل اور موقع کے حسب حال جواب دے سکیں ۔ مناظرہ کر سکیں لیکن چونکہ سب کے سب ایسے نہیں ہو سکتے ۔ اس لیے یہ نہیں فرمایا کہ سب کے سب ایسے ہو جا ئیں بلکہ یہ فرمایا کہ ہر جماعت اور گروہ میں سے ایک ایک آدمی ہو اور گویا ایک جماعت ایسے لوگوں کی ہونی چاہیے جو تبلیغ اور اشاعت کا کام کر سکیں ۔ انسانوں اس لیے بھی کہ ہر شخص ایسی طبیعت اور مذاق کا نہیں ہوتا ۔ خود کے تین درجات اللہ تعالی نے اسنوں کی تقسیم تین طرح پر کی ہے وھ مِنْهُم ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَ مِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرُتِ (فاطر : ۳۳) یعنی تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ جو ظَالِمُ لِنَفْسِہ کہلاتے ہیں ان کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ خواہش نفس ان پر غالب ا ہوتی ہے اور وہ گویا پنجہ نفس میں گرفتار ہوتے ہیں ۔ دوئم وہ لوگ ہیں جو مقتصد یعنی میانہ رو کہلاتے ہیں یعنی کبھی نفس ان پر غالب ہو جاتا ہے اور کبھی وہ نفس پر غالب ہو جاتے ہیں اور کا اور پہلی حالت ۔ ت سے نکل چکے ہوتے ہیں لیکن تیسرا گر وہ ان لوگوں کا ہوتا ہے جو پنجہ نفس سے بکلی رہائی پالیتے ہیں اور وہ سَابِقٌ بِالْخَيْراتِ کہلاتے ہیں یعنی نیکی کرنے میں سب سے سبقت لے جاتے ہیں ۔ اور وہ محض خدا ہی کے لیے ہو جاتے ہیں۔ ان میں علمی اور عملی قوت آجاتی ہے۔ ایسے لوگ خدمت دین کے لیے مفید اور کارآمد ہوتے ہیں۔ اس قانون کو مد نظر رکھ کر اللہ تعالیٰ نے بعض کا حکم دیا کیونکہ گل کے گل تو اس مقصد کے لیے طیار نہیں ہو سکتے تھے ۔ اور یہی اللہ تعالیٰ کا قانون قدرت ہے کہ بعض لوگ ایسے ہونے چاہئیں جو تجارت، زراعت یا ملازمت کریں اور ایسے بھی ہونے چاہئیں جو دین کی تبلیغ کرنے والے ہوں تا کہ قوم آئندہ ٹھوکروں سے بچ جاوے۔