ملفوظات (جلد 8) — Page 130
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۰ جلد هشتم - اس سے بدتر تھی جیسا کہ انجیل سے معلوم ہوتا ہے۔ خود حضرت عیسی اپنی جماعت کو لالچی بے ایمان کہتے رہے بلکہ یہاں تک بھی کہا کہ اگر تم میں ذرہ بھر بھی ایمان ہو تو تم میں یہ برکات ہوں وہ برکات ہوں ۔ غرض وہ اور حضرت موسیٰ علیہما السلام اپنی جماعت سے ناراض ہی گئے اور انہیں ایک وفادار جماعت کے میسر نہ آنے کا افسوس ہی رہا۔ یہ بالکل سچی بات ہے کہ نہ توریت میں اور نہ انجیل میں کہیں بھی ان کو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ نہیں کہا گیا۔ مگر بر خلاف اس کے جو جماعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو میسر آئی تھی اور جس نے آپ کی قوت قدسی سے اثر پایا تھا اس کے لیے قرآن شریف میں آیا ہے رضی اللہ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ( البينة : ۹) اس کا سبب کیا ہے؟ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کا نتیجہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجوہ فضیلت میں سے یہ بھی ایک وجہ ہے کہ آپ نے ایسی اعلیٰ درجہ کی جماعت طیار کی۔ میرا دعویٰ ہے کہ ایسی جماعت آدم سے لے کر آخر تک کسی کو نہیں ملی۔ ۔ جماعت کی موجودہ حالت میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک ہم کو بھی ایسی جماعت نہیں ملیں۔ جب ہم کسی امر میں فیصلہ کر دیں تو تھوڑے ہیں جو اس کو شرح صدر سے منظور کر لیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تو وہ ایسے فدائی اور جان نثار تھے کہ جانیں دے دیں۔ اب اگر اتنا ہی کہا جاوے کہ سو دو سوکوس پر جاؤ اور وہاں دو چار برس تک بیٹھے رہو تو پھر گننے مننے لگ جاویں۔ زبان سے تو کہنے کو کہ دیتے ہیں کہ آپ جو کر دیں ہم کو منظور ہے لیکن جب کہا جاوے تو پھر ناراضگی کا موجب ہوتے ہیں۔ یہ نفاق ہوتا ہے۔ میں منافقوں کو پسند نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ منافقوں کی نسبت فرماتا ہے إِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (النساء : ١٤٦) یقیناً یاد رکھو منافق کافر سے بھی بدتر ۔ اس لیے کہ کافر میں شجاعت اور قوت فیصلہ تو ہوتی ہے وہ دلیری کے ساتھ اپنی مخالفت کا اظہار کر دیتا ہے مگر منافق میں شجاعت اور قوت فیصلہ نہیں ہوتی وہ چھپاتا ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اگر جماعت میں وہ اطاعت ہوتی جو ہونی چاہیے تھی تو اب تک یہ جماعت بہت کچھ ترقی کر لیتی ۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے لوگ ابھی تک کمزور ہیں ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ