ملفوظات (جلد 8) — Page 113
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۳ جلد هشتم اس عالم سے چلا جانے کا کوئی غم اسکو نہ ہو اور ایسی صورت میں یہ عالم تو اسی قدر ہے کہ جیسے مسافر کسی جگہ کو کوچ کرنے کو طیاری کرے تو زاد راہ کا بندو بست کر لیتا ہے۔ اسی قدر یہ عالم ہے کہ اس عالم کے سفر کے لیے زادِ راہ کا بندو بست کرے اور نہ اس سے زیادہ شریعت حکم دیتی ہے۔ اگر یہ عالم ہمیشہ کے لیے ہوتا تو آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک جس قدر انبیاء ورس رسل اس دنیا میں گزرے ہیں ان کے ہمیشہ یہاں رہنے کی بہت بڑی ضرورت تھی اور اس کو اللہ تعالیٰ سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے؟ مگر دیکھ لو اللہ تعالیٰ نے جب تک ان کے لیے اس عالم میں رہنا پسند کیا وہ یہاں رہے اور آخر اپنا کام کر کے اس دنیا سے رخصت ہوئے خواہ دوسروں کے نزدیک ان کی وہ رخصت قبل از وقت ہی سمجھی گئی ہو۔ اوروں کا ذکر چھوڑو کہ بنی اسرائیل میں بھیجے ہوئے رسولوں میں حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک بڑے اولوالعزم رسول تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان سے بڑے بڑے وعدے فرمائے ۔ منجملہ ان کے ارضِ مقدس میں داخل ہونے کا وعدہ تھا مگر اس ارضِ مقدس کے راستہ ہی میں ان کو موت آگئی اور وہ اس وعدہ کی زمین میں داخل نہ ہو سکے۔ پھر خدا تعالیٰ نے ان کے بعد یشوع بن نون کو برگزیدہ کیا اور وہ اس زمین میں داخل ہوا۔ غرض یہ ایک قسم کے اسرار ہوتے ہیں جن کو ہر شخص نہیں سمجھ سکتا ۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی دعائیں حضرت عیسی علیہ السلام جور ورد کر دعا میں کرتے تھے اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ موت سے ڈرتے تھے یا اس زندگی سے پیار کرتے تھے بلکہ ان کو نا کامی کا اندیشہ تھا کہ ایسا نہ ہو میں نا کام دنیا سے اٹھوں ۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاؤں کو سنا۔ مگر یہ نہیں کہ وہ موت کا پیالہ ان سے ٹل گیا اپنے وقت پر انہوں نے پیا اور رخصت ہوئے ۔ مامور کی وفات سے خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ میں کوئی فرق نہیں آتا فرمایا۔ ہم تو اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم کرتے ہیں اور ہم یقین کرتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرتا ہے بہتر کرتا ہے۔ یہ مت خیال کرو کہ اللہ تعالیٰ کے کاروبار میں جن کا اس نے ارادہ کیا ہوتا ہے کسی قسم کا