ملفوظات (جلد 8) — Page 2
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲ جلد هشتم کی اجازت دی تھی وہ اس واسطے تھی کہ یورپ امریکہ کے لوگ جو ہم سے بہت دور ہیں اور فوٹو سے قیافہ شناسی کا علم رکھتے ہیں اور اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں ان کے لیے ایک روحانی فائدہ کا موجب ہو۔ کیونکہ جیسا تصویر کی حرمت ہے۔ اس قسم کی حرمت عموم نہیں رکھتی بلکہ بعض اوقات مجتہد اگر دیکھے کہ کوئی فائدہ ہے اور نقصان نہیں تو وہ حسب ضرورت اس کو استعمال کر سکتا ہے۔ خاص اس یورپ کی ضرورت کے واسطے اجازت دی گئی ۔ چنانچہ بعض خطوط یورپ امریکہ سے آئے جن میں لکھا تھا کہ تصویر کے دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بالکل وہی مسیح ہے۔ ایسا ہی امراض کی تشخیص کے واسطے بعض وقت تصویر سے بہت مددمل سکتی ہے۔ شریعت میں ہر ایک امرجو مَا يَنْفَعُ النَّاسَ (الرعد: ۱۸) کے نیچے آئے اس کو دیر پا رکھا جاتا ہے۔ لیکن یہ جو کارڈوں پر تصویر میں بنتی ہیں ان کو خریدنا نہیں چاہیے۔ بت پرستی کی جڑ تصویر ہے۔ جب انسان کسی کا معتقد ہوتا ہے تو کچھ نہ کچھ تعظیم تصویر کی بھی کرتا ہے۔ ایسی باتوں سے بچنا چاہیے اور ان سے دور رہنا چاہیے ایسا نہ ہو کہ ہماری جماعت پر سر نکالتے ہی آفت پڑ جائے۔ میں نے اس ممانعت کو کتاب میں درج کر دیا ہے جوزیر طبع ہے۔ جو لوگ جماعت کے اندر ایسا کام کرتے ہیں ان پر ہم سخت ناراض ہیں ۔ ان پر خدا ناراض ہے۔ ہاں اگر کسی طریق سے کسی انسان کی روح کو فائدہ ہو تو وہ طریق مستثنی ہے۔ ایک کارڈ تصویر والا دکھایا گیا ) دیکھ کر فرمایا۔ یہ بالکل نا جائز ہے۔ ایک شخص نے اس قسم کے کارڈوں کا ایک بنڈل لا کر دکھایا کہ میں نے یہ تاجرانہ طور پر فروخت کے واسطے خرید کئے تھے اب کیا کروں؟ فرمایا۔ ان کو جلا دو اور تلف کر دو ۔ اس میں اہانت دین اور اہانت شرع ہے۔ نہ ان کو گھر میں رکھو۔ اس سے کچھ فائدہ نہیں۔ بلکہ اس سے آخیر میں بت پرستی پیدا ہوتی ہے۔ اس تصویر کی جگہ پر اگر تبلیغ کا کوئی فقرہ ہوتا تو خوب ہوتا ۔ او الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ راکتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۳