ملفوظات (جلد 8) — Page 103
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۳ جلد هشتم ظاہر ہوئے اور اب بھی اگر کوئی چالیس دن میرے پاس رہے تو وہ نشان دیکھ لے گا۔ لیکھرام کا نشان عظیم الشان نشان ہے۔ احمق کہتے ہیں کہ میں نے قتل کر دیا ۔ اگر یہ اعتراض صحیح ہے تو پھر ایسے نشانات کا امان ہی اُٹھ جائے گا ۔ کل کو کہہ دیا جائے گا کہ خسرو پرویز کو معاذ اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کر دیا ہوگا ۔ ایسے اعتراض حق بین اور حق شناس لوگوں کا کام نہیں ہے۔ میں آخر میں پھر کہتا ہوں کہ میرے نشانات تھوڑے نہیں ۔ ایک لاکھ سے زیادہ انسان میرے نشانوں پر گواہ ہیں اور زندہ ہیں۔ میرے انکار میں جلدی نہ کرو۔ ورنہ مرنے کے بعد کیا جواب دو گے؟ یقیناً یا درکھو کہ خدا سر پر ہے اور وہ صادق کو صادق ٹھیرا تا اور کاذب کو کا ذب۔ ۹ نومبر ۱۹۰۵ء (بمقام امرتسر ) ور تاریخ کی صبح کو امرتسر میں ایک تقریر کے واسطے تجویز کی گئی۔ جس کے لئے رائے گٹھیا لال صاحب وکیل کا لکچر ہال لیا گیا تھا۔ لکچر ہال سب آدمیوں سے بھر گیا تھا۔ بجے کے بعد حضرت نے تقریر شروع کی پہلے یہ بیان فرمایا کہ قریباً چودہ سال پہلے جب کہ میں یہاں آیا تھا تو اس وقت چند آدمی میرے ساتھ تھے مولوی لوگوں نے مجھے کفر کا فتوی دیا اور عبد الحق غزنوی نے میرے ساتھ مباہلہ کیا یعنی میں نے اور اس نے قسم کھائی ۔ جس میں میں نے کہا کہ اگر میں اپنے دعوی میں جھوٹا اور مفتری ہوں تو خدا مجھے ذلیل اور ہلاک کرے۔ اس مباہلہ کے بعد خدا تعالیٰ نے میری بڑی نصرت کی۔ تین لاکھ سے زیادہ آج میرے مرید ہیں۔ اور کثرت سے مخلصین میرے گرد ہیں۔ اور باوجود مخالفین کی سخت کوششوں اور منصوبوں کے خدا تعالیٰ نے مجھے مقدمات سے بچایا اور بہت سا مال مجھے بھیجا۔ غرض قریب پونے گھنٹہ کے حضرت نے تقریر کی۔ اور اس کے بعد آپ نے اسلام کی خوبیوں کا ذکر شروع کرنا چاہا۔ لیکن افسوس ہے کہ مخالفین نے جو پہلے سے منصوبہ کر کے آئے تھے کہ درمیان میں شور الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴۱ مورخه ۳۰ نومبر ۱۹۰۶ صفحه ۴ تا ۶ نیز بدر جلد ۲ نمبر ۵۱ مورخه ۲۰ دسمبر ۱۹۰۶ ء صفحه ۴ تا ۱۸