ملفوظات (جلد 8) — Page 93
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۳ جلد هشتم گناہ سے بچنے کا صحیح علا میں میں جملہ معترضہ کے طور پر کہتا ہوں کہ اپنی اپنی جگہ پر قوم کو یہ فکر لگا ہوا ہے کہ ہم گناہ سے پاک ہو جاویں۔ مثلاً آریہ صاحبان سکتا نے تو یہ بات رکھی ہوئی ہے کہ بجز گناہ کی سزا کے اور کوئی صورت پاک ہونے کی ہے ہی نہیں ۔ ایک گناہ کے بدلے کئی لاکھ جو نہیں ہیں جب تک انسان ان جونوں کو نہ بھگت لے وہ پاک ہی نہیں ہو ۔ مگر اس میں بڑی مشکلات ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ جبکہ تمام مخلوقات گناہگا رہی ہے تو اس سے نجات کب ہوگی؟ اور اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ ان کے ہاں یہ امر مسلّمہ ہے کہ نجات یافتہ بھی ایک عرصہ کے بعد مکتی خانہ سے نکال دیئے جاویں گے تو پھر اس نجات سے فائدہ ہی کیا ہوا؟ جب یہ سوال کیا جاوے کہ نجات پانے کے بعد کیوں نکالتے ہو تو بعض کہتے ہیں کہ نکالنے کے لئے ایک گناہ باقی رکھ لیا جاتا ہے۔ اب غور کر کے بتاؤ کہ کیا یہ قادر خدا کا کام ہو سکتا ہے؟ اور پھر جبکہ ہر نفس اپنے نفس کا خود خالق ہے خدا تعالیٰ اس کا خالق ہی نہیں ( معاذ اللہ ) تو اسے حاجت ہی کیا ہے کہ وہ اس کا ماتحت رہے۔ دوسرا پہلو عیسائیوں کا ہے ۔ انہوں نے گناہ سے پاک ہونے کا ایک پہلو سو چاہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسی کو خدا اور خدا کا بیٹا مان لو۔ اور پھر یقین کر لو کہ اُس نے ہمارے گناہ اُٹھا لئے اور وہ صلیب کے ذریعہ لعنتی ہوا۔ نعوذ باللہ من ذالک ۔ اب غور کرو کہ حصول نجات کو اس طریق سے کیا تعلق؟ گناہوں سے بچانے کے لئے ایک اور بڑا گناہ تجویز کیا ؟ کہ انسان کو خدا بنایا گیا۔ کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گناہ ہو سکتا ہے؟ پھر خدا بنا کر اُسے معا ملعون بھی قرار دیا۔ اس سے بڑھ کر گستاخی اور بے ادبی اللہ تعالیٰ کی کیا ہوگی؟ ایک کھاتا پیتا حوائج کا محتاج خدا بنا لیا گیا حالانکہ توریت میں لکھا تھا کہ دوسرا خدا نہ ہو۔ نہ آسمان پر نہ زمین پر ۔ پھر دروازوں اور چوکھٹوں پر یہ تعلیم لکھی گئی تھی ۔ اُس کو چھوڑ کر یہ نیا خدا تر اشنا گیا۔ جس کا کچھ بھی پتہ توریت میں نہیں ملتا ۔ میں نے فاضل یہودی سے پوچھا ہے کہ کیا تمہارے ہاں ایسے خدا کا پتہ ہے جو مریم کے پیٹ سے نکلے اور وہ یہودیوں کے ہاتھوں سے ماریں کھاتا پھرے۔ اس پر یہودی علماء نے مجھے یہی