ملفوظات (جلد 7) — Page 1
ملفوظات حضرت مسیح موعود 1 جلد هفتم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۴ء ( بمقام قادیان بعد نماز مغرب ) حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے شہ نشین پر جلوہ افروز ہو کر فرمایا کہ میرے سر کی حالت آج بھی اچھی نہیں چکر آ رہا ہے۔ جب جماعت کا وقت آتا ہے تو اس وقت خیال گذرتا ہے کہ سب جماعت ہوگی اور میں شامل نہ ہوں گا اور افسوس ہوتا ہے۔ اس لیے افتاں خیزاں چلا آتا ہوں۔ چند اصحاب اپنی مستورات کے علاج کے لیے لاہور تشریف لے گئے ہوئے تھے اور انجام کار معلوم ہوا کہ مس ڈاکٹروں کے علاج سے کوئی فرق مرض میں معلوم نہیں ہوتا ۔ اس لیے حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ چونکہ یہ لوگ متد بین نظر نہیں آتے ۔ اس لیے خطرہ ہے کہ کوئی اور تکلیف نہ بڑھ جاوے۔ ان کو کہہ دو کہ چلے آویں ۔ شافی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ دائیوں کا دستور ہوتا ہے کہ محض روپیہ بٹورنے کی خاطر وہ مرض کو بڑھاتی جاتی ہیں۔ قادیان کی آب و ہوا لاہور کی نسبت بہت عمدہ ہے ہے۔اس ۔ اس سے ان کو فائدہ ہوگا۔ ہم یہ اس لیے کہتے ہیں کہ جو بات دل میں آوے اسے مخفی رکھا جاوے تو یہ ایک قسم کی خیانت ہے ۔