ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 394 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 394

جلد ہفتم انبیاء تکالیف کے ساتھ موافقت کر لیتے ہیں ۲۴۸ مشکلات کے وقت انبیاء راتوں کی دعاؤں سے کام لیتے تھے الد ۔ خاتم النبيين بنی اسرائیل سے بنوا اسماعیل کی طرف نبوت کی منتقلی امت محمدیہ میں نبوت کا دروازہ کھلا ہے ۲۹۸ ۳۰۳ نجات نجات صرف اسلام میں ہے ۳۲۵ ۲۷۵ ۳۲۱ الله ۱۰۳ ،۱۶ ۱۱۹ ، ۱۱۰ ۳۱۸ ۴۶ ۳۸ ۲۷ ۲۸۴ ملفوظات حضرت مسیح موعود تمام نبیوں کی مشترکہ تعلیم انبیاء کی بشریت تمام انبیاء کی وفات کتب سماوی، تاریخ اور اجماع صحابہ سے ثابت ہے جس طرح سارے نبی آسمان پر گئے ویسے ہی عیسی بھی گئے زندگی کے ہر میدان میں سادگی اور بے تکلفی ۲۰۱۱۸۷ ۱۸۷ ۲۸۷ انبیاء کے کلام میں عجز وانکسار کے الفاظ کے استعمال کی وجہ ۱۷۷ نبی کے بعض رؤیا اس کے زمانہ میں پورے ہوتے ہیں، بعض اولاد یا کسی متبع کے ذریعہ سے نبی کا پر تو امت پر بھی پڑتا ہے انبیاء کی زندگی کی جڑ اور ان کی کامیابیوں کا اصل اور سچا ذریعہ دعا ہے بعثت کی غرض انبیاء کی بعثت کی غرض دہریت کو صرف نبی ہی جلا سکتا ہے ۳۰۲ ،۲۹۱،۹۶ ،۱۵ ۸۷ بعثت کی غرض ہی یہ تھی کہ لوگ اس نمونہ اور اسوہ پر چلیں انبیاء کے مصائب اور ابتلا اس وقت تک نجات نہیں جب تک انسان ۲۲۵ ۱۵۱ نبی کا روپ نہ ہو جائے مال اور قوم پر منحصر نہیں ۵۲ نشانات مخلوق کی قساوت قلبی انتہا کو پہنچ چکی ہے اس لیے اب وہ قہری نشان دکھانا چاہتا ہے مسیح موعود علیہ السلام کی تائید میں نشانات کا ظہور ۲۷۵ ۱۳۸ ۴ را پریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کا نشان نفس نفس انسانی کے مراتب ۱۸۱ نفس لوامه ۲۱۳ اس کو یہ شرف حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی اا قسم کھاتا ہے ہر نبی کے وقت ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے انبیاء پر شدائد و مشکلات آنے کی حکمت انبیاء کے غموں کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے صرف انبیاء کے قلوب ہی صدمات کو برداشت کر سکتے ہیں