ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 32

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲ جلد ہفتم بعض ایسے نظر آتے ہیں کہ عنقریب عبداللطیف بننے والے ہیں ۔ ۵ رنومبر ۱۹۰۴ء بمقام قادیان - بوقت مغرب ) ( - طاعون کی شدت طاعون کے ذکر پرفرمایا کہ کسوف اور خسوف کے ساتھ ہی قرآن شریف میں اَيْنَ الْمَفَرُّ (القيامة : 11) آیا ہے جس سے یہی مراد ہے کہ طاعون اس کثرت سے ہوگی کہ کوئی جگہ پناہ کی نہ رہے گی ۔ میرے الهام عَفَتِ الدِّيَارُ مَحَلُّهَا وَ مُقَامُهَا کے یہی معنے ہیں ۔ حضرت مسیح علیہ السلام کا وجود باعث ابتلا ثابت ہوا ہے حضرت مسیح موعود کے علیہ السلام کے وجود کی نسبت فرمایا کہ ان کا وجود دنیا کے لیے ابتلا ہی ثابت ہوا ہے۔ یعنی ابتلا اور حضرت مسیح موعود سے علیہ السلام کے وجود کا گہرا تعلق ہے کیونکہ جو منکر ہوئے وہ بھی دوزخی بنے اور جوان پر ایماندار ہیں وہ بھی دوزخ کے گندے ہیں جیسے کہ عیسائیوں کے عقائد اور عملی حالت سے واضح ہے ۔ پھر مسلمان بھی ان پر ایمان رکھتے تھے وہ بھی غلو کر کے اور آسمان پر بٹھا کر مغضوب ہوئے۔ پس صرف مسیح کا وجود ہی اس قسم کا ہے کہ جس کا دوست بھی جہنم میں اور دشمن بھی جہنم میں ۔ اس قسم کا ابتلا کسی اور نبی کے وجود کے ساتھ نہیں ہے۔ کے ۱۱ نومبر ۱۹۰۴ء ایک شخص کی طرف سے رقعہ پیش کیا گیا کہ یہ مولوی صاحب ہیں اور ان کا لڑکا فوت ہو گیا ہے۔ ان کو ل البدر جلد ۳ نمبر ۴۱، ۰۴۲ ۴۱، ۴۲ مورخه یم و ۱۸ مورخہ یکم و ۸ و ۸ نومبر ۱۹۰۴ صفحه ۱۳ ہے ، سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام مراد ہیں۔ (مرتب) الحکم جلد ۸ نمبر ۴۰ مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۰۴ صفحه ۲