ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 345

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۵ اور وحدہ لاشریک اکیلا خدا ہے اس کو بچانے والا کون ہو سکتا ہے۔ ایک مرتبہ آپ کی مجلس میں مفتی محمد صادق صاحب رسالہ ” بے گناہی مسیح ، سنا 66 ایک الزامی جواب رہے تھے۔ اس میں ایک مقام پر مصنف نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلد ہفتم پاک ذات پر محض اس بنا پر حملہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیوں کیا ؟ اس پر فرمایا۔ افسوس یہ لوگ ایسے بیہودہ اعتراض کرتے ہیں جن کو کوئی سلیم الفطرت پسند نہیں کر سکتا ۔ ایسی باتیں کر کے یہ لوگ کچھ سننا چاہتے ہیں ۔ اگر یہ اعتراض کرنے سے پہلے اتنا سوچ لیتے کہ سے پہلے اپنا ایک شخص جو بیگانی اور بد وضع مشہور عورتوں سے تعلق رکھتا ہے اس کی زندگی کو تو وہ بے عیب اور خدا کی زندگی قرار دیتے ہیں۔ پھر جائز طور پر نکاح کرنے والے پر اعتراض کیوں ہے؟ کیا یہ شرم کی بات نہیں ہے؟ اپنے گھر میں انجیل کا مطالعہ کریں اور کفارہ کے برکات جو یورپ کو اخلاقی طور پر ورثہ میں ملے ہیں ان پر نظر کر لے۔ پھر وہ اسلام پر اعتراض کرنے کے لیے منہ کھولے ۔ جس کے گھر میں اس لو قدر گند ہوا سے تو شرم آنی چاہیے ۔ لے بلا تاریخ کے افسوس کا مقام ہے کہ یہ دنیا چند روزہ ہے لیکن اس کے لیے وہ وہ اس زمانہ کی دنیا پرستی کوشیش کی جاتی ہیں گویا بھی یہاں سے جان ہی نہیں ہے۔ انسان کیسا غافل اور ناسمجھ ہے کہ علانیہ دیکھتا ہے کہ یہاں کسی کو ہمیشہ کے لیے قیام نہیں ہے لیکن پھر بھی اس کی آنکھ نہیں کھلتی ۔ اگر یہ لوگ جو بڑے کہلاتے ہیں اس طرف توجہ کرتے تو کیا اچھا ہوتا ۔ دنیا کی عجیب حالت ہو رہی ہے جو ایک دردمند دل کو گھبرا دیتی ہے۔ بعض لوگ تو کھلے طور پر طالب دنیا الحکم جلد ۹ نمبر ۱۹ مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۵ ء صفحه ۹ ہے یہ ملفوظات جن پر کوئی تاریخ درج نہیں ۔ ایڈیٹر صاحب الحکم نے پرانی نوٹ بک میں سے ایک صفحہ“ کے زیر عنوان الحکم میں شائع کئے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے۔ ۱۹۰۵ء سے پہلے کی کسی تاریخ کے یہ ملفوظات ہیں واللہ اعلم ( مرتب ) ۔