ملفوظات (جلد 7) — Page 343
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۳ جلد ہفتم تین دن ہاویہ میں رہا۔ بتاؤ کیا وہ یہ باتیں خوشی کے ساتھ بیان کرے گا یا اندر ہی اندر اس کا دل کھایا جائے گا۔ لیکن ایک مسلمان بڑی جرات اور دلیری سے کہے گا کہ میں اس خدا پر ایمان لایا ہوں جو تمام صفات کا ملہ سے موصوف اور تمام بدیوں اور نقائص سے منزہ ہے۔ وہ رب ہے۔ بلامانگے دینے والا رحمان ہے ۔ سچی محنتوں کے ثمرات ضائع نہ کرنے والا ہے ۔ وہ حی و قیوم ارحم الراحمین خدا ہے ۔ وہ ہمیشہ کی نجات دیتا ہے۔ اس کی عطا غیر مجذوذ ہے۔ پس جب مسلمان اپنے خدا کی صفات بیان کرے گا تو ہرگز شرمندہ نہیں ہوگا اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے جو ہم پر ہے۔ ایسا ہی اور بہت سی باتیں ہیں۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مان کر ہم کبھی کسی کے سامنے شرمندہ نہیں ہو سکتے ۔ معجزات مسیح معجزات میں کی حقیقت ڈوئی نے خوب کھولی ہے۔ وہ دعوی کرتا ہے کہ میں بھی سلب امراض کرتا ہوں اسی طرح پر جس طرح یسوع مسیح کیا کرتا تھا۔ اور عجیب تر یہ بات ہے کہ جہاں کوئی شخص اچھا نہیں ہوتا وہاں وہ شرمندہ نہیں ہوتا بلکہ کہہ دیتا ہے کہ یسوع مسیح سے بھی فلاں شخص اچھا نہیں ہوا۔ سلب امراض فی الحقیقت کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر ناز کیا جا سکے۔ یہودی بھی اس زمانہ میں سلب امراض کرتے تھے اور ہندوستان میں بھی بہت لوگ اس قسم کے ہوئے ہیں اور آج کل تو ہزاروں ہزار دہرئیے اور ملحد بھی ایسے ہیں جو سلب امراض کر سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ ایک فن اور مشق ہے جس کے لیے یہ بھی ضرور نہیں کہ اس فن کا عامل خدا پر یقین رکھتا ہو یا نیک چلن ہو۔ جس طرح پر دوسرے علوم کے حصول کے لیے نیک چلنی اور خدا پرستی شرط نہیں ہے اس کے لیے بھی نہیں ۔ یعنی اگر کوئی شخص ریاضی کے قواعد کی مشق کرے تو قطع نظر اس کے کہ وہ دہر یہ ہے یا موحد خدا پرست وہ قواعد اس کے لیے کوئی روک پیدا نہیں کریں گے۔ برخلاف اس کے وہ روحانی کمالات جو اسلام سکھاتا ہے ان کے لیے ضروری ہے کہ اعمال میں پاکیزگی اور صدق اور وفاداری ہو۔ بغیر اس کے وہ باتیں حاصل ہی نہیں ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سلب امراض والے مسیح کے اچھے کئے ہوئے مر گئے۔ لیکن قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا ( الشمس : ١٠) کی تعلیم دینے والے کے زندہ کئے ہوئے آج تک