ملفوظات (جلد 7) — Page 337
ملفوظات حضرت مسیح موعود صلیبی ابتلا سے بچ جاتے ۔ ۳۳۷ جلد ہفتم سعدی بھی یہی مذہب رکھتا تھا اور یہی سچا مذہب ہے۔ کوئی اکابر اس کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ سعدی کہتا ہے۔ ه وہ کہ گر مرده باز گردیدے برائے قبیلہ و پیوند رد میراث سخت تر بودی وارثان را از مرگ خویشاوند کے بلا تاریخ حضرت اقدس کے کلمات طیبات (ایک شخص کے اپنے الفاظ میں ) فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان کو آدم بننا چاہیے ۔ آدم سے مراد انسان اور آدم کامل انسان ہے۔ جب انسان کامل آدم بن جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم سجدہ (اطاعت ) کا دیتا ہے اور اس کے ہر ایک کام کو خدا تعالیٰ فرشتوں کے ذریعہ سے سرانجام کرتا ہے۔ لیکن آدم کامل بننے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کا خدا سے سچا اور پکا تعلق ہو۔ جب انسان ہر ایک حرکت اور سکون حکم الہی کے نیچے ہو کر کرتا ہے تو انسان خدا کا ہو جاتا ہے۔ تب خدا انسان کا والی وارث ہو جاتا ہے اور پھر اس پر کوئی مخالفت سے دست اندازی نہیں کر سکتا۔ لیکن وہ آدمی جو احکام الہی کی پروا نہیں کرتا خدا بھی اس کی پروا نہیں کرتا ۔ جیسے کہ آیت کریمہ وَلَا يَخَافُ عقبها (الشمس : ۱۶) سے ظاہر ہے۔ یعنی نافرمانوں پر جب وہ عذاب کرنے پر آتا ہے تو ایسی لا ابالی الحکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخه ۱۷ رنومبر ۱۹۰۵ء صفحه ۹، ۱۰ کے مندرجہ عنوان کے ماتحت بلا تاریخ یہ ملفوظات الحکم جلد ۹ نمبر ۵ کے صفحہ ۴ پر درج ہیں ۔ جن کے آخر میں محمد خاں صاحب مرحوم کا نام لکھا ہے۔ معلوم ہوتا ہے مکرم محمد خاں صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کسی مجلس میں یہ کلمات سنے اور انہیں اپنے الفاظ میں قلمبند کر کے الحکم میں اشاعت کے لیے بھیجا۔ (مرتب)