ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 335 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 335

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۵ جلد ہفتم بھی اقرار کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام سے خوارق کا ظہور ہوا لیکن یہ سچ ہے کہ ان معجزات کی حقیقت جو خدا تعالیٰ نے ہم پر کھولی اسے ہم نے بہ حیثیت حکم ظاہر کر دیا ہے۔ اس کی ہم کو کچھ پروا نہیں کہ یہ لوگ اس پر گالیاں دیتے ہیں یا کیا کہتے ہیں ۔ یہ لوگ اگر میری بات سے انکار کرتے ہیں تو پھر مجھ سے نہیں بلکہ قرآن شریف سے انکار کرتے ہیں۔ کیونکہ میں نے جو کچھ لکھا ہے اپنی طرف سے تو لکھا ہی نہیں ۔ قرآن شریف ہی سے لکھا ہے ۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ قرآن شریف نے صاف طور پر فرما دیا ہے کہ حقیقی مردے واپس نہیں آتے فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ (الزمر : ۴۳) کے کیا معنے ہیں ۔ پھر اگر میں نے یہ کہا کہ وہ مردے جو حضرت مسیح نے زندہ کئے وہ حقیقی مردے نہ تھے جو آیت فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ کے وعدے کے موافق واپس نہیں آتے تو کیا برا کیا ؟ اس سے معجزات کا انکار کیونکر ثابت ہوا۔ میرا معجزات سے انکار تو ثابت نہیں ہوتا۔ البتہ ایسا اعتراض کرنے والے کا قرآن شریف سے انکار ثابت ہوتا ہے کیونکہ نہ ایک جگہ نہ دو جگہ بلکہ قرآن شریف کے متعدد مقامات سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا و حرام عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (الانبياء : ٩٦) ۔ اب بتاؤ کہ جب اللہ تعالیٰ کھول کھول کر ایک امر کو بیان کر دے کہ مردہ حقیقی واپس نہیں آیا کرتا تو پھر قرآن شریف کی تعلیم سے یہ کیسا انحراف ہے کہ خواہ مخواہ یہ تجویز کیا جاوے کہ فلاں شخص ایسا کرتا تھا۔ خدا سے ڈرنا چاہیے ۔ ایسی باتوں کو منہ سے نکالتے وقت اللہ تعالیٰ کا ادب کرو۔ ہاں یہ سچ ہے کہ بعض لوگ جو مردہ ہی کی طرح ہو جاتے ہیں اور کوئی امید زندگی کی باقی نہیں ہوتی ۔ صرف دم باقی ہوتا ہے۔ ہر قسم کی تدابیر کی راہ بند ہوتی ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے اپنے کسی بندہ کی دعاؤں سے اس مردہ کو زندہ کر دیتا ہے۔ یہ بھی احیاء موتی ہی ہوتا ہے۔ اور یہاں بھی اس قسم کی مثالیں موجود ہیں ۔ نواب صاحب کے لڑکے عبدالرحیم کو جن لوگوں نے دیکھا ہے وہ اس کی شہادت دے سکتے ہیں