ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 332 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 332

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۲ جلد ہفتم کیونکہ ساری بے نقط لکھی ہے۔ میں نے اس کا جواب دیا کہ بے نقط لکھنا کوئی اعلیٰ درجہ کی بات نہیں۔ یہ ایک قسم کا تکلف ہے اور تکلفات میں پڑنا لغوا مر ہے۔ مومنوں کی شان یہ ہے وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (المؤمنون : ۴) یعنی مومن وہ ہوتے ہیں جو لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔ اگر بے نقط ہی کو معجزہ سمجھتے ہو تو قرآن شریف میں بھی ایک بے نقط معجزہ ہے اور وہ یہ ہے لَا رَيْبَ فِيهِ ( البقرۃ : ٣) اس میں ریب کا کوئی لفظ نہیں ۔ یہی اس کا معجزہ ہے۔ لا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ ( حم السجدة : ۴۳) اس سے بڑھ کر اور کیا خوبی ہوتی ۔ - میں نے کئی بار اشتہار دیا ہے کہ کوئی ایسی سچائی پیش کرو جو ہم قرآن شریف سے نہ نکال سکیں۔ لَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَبٍ مُّبِينِ (الانعام : ٢٠) یہ ایک نا پیدا کنار سمندر ہے اپنے حقائق اور معارف کے لحاظ سے اور اپنی فصاحت و بلاغت کے رنگ میں ۔ اگر بشر کا کلام ہوتا توسطحی خیالات کا نمونہ دکھا یا جاتا ۔ مگر یہ طرز ہی اور ہے جو بشری طرزوں سے الگ اور ممتاز ہے ۔ اس میں با وجود اعلیٰ درجہ کی بلند پروازی کے نمود و نمائش بالکل نہیں۔ خود فرمایا کہ امیوں کے لیے ہے۔ اور پھر اور لطف یہ ہے کہ ظاہر تو امیوں کے لیے ہے اور باطن ہر ایک کے سیراب کرنے والا ہے۔ سورۃ الرحمن میں تکرار کی حکمت خواجہ صاحب نے پوچھا کہ سورہ رحمان میں اعادہ کیوں ہوا ہے؟ فرمایا ۔ اس قسم کا التزام اللہ تعالیٰ کے کلام کا ایک ممتاز نشان ہے۔ انسان کی فطرت میں یہ امر واقع ہوا ہے کہ موزوں کلام اسے جلد یاد ہو جاتا ہے۔ اسی لیے فرمایا وَ لَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ ( القمر : ۱۸) یعنی بے شک ہم نے یاد کرنے کے لیے قرآن شریف کو آسان کر دیا ہے۔ یا درکھو اللہ تعالیٰ کی ساری چیزوں میں ایک حُسن ہے تو کیا یہ ضروری نہیں کہ اس کے کلام میں بھی حُسن ہو؟ یہ اس کا ایک حُسن ہے۔ اگر قرآن مجید ژولیدہ بیان ہوتا تو اس سے کیا فائدہ ہوتا ؟ طبائع کو اس کی طرف توجہ ہی نہ ہوتی ۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں عجیب عجیب قسم کی مخلوق دیکھی جاتی ہے۔ ل غالباً خواجہ کمال الدین صاحب مراد ہیں ۔ (مرتب)