ملفوظات (جلد 7) — Page 324
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۴ قرآن دنیا سے کس طرح اٹھایا جائے گا جلد ہفتم ترک ۔ یہ بھی تو آیا ہے کہ مسیح کے زمانہ میں قرآن اٹھا یا جائے گا ۔ اب کہاں اٹھایا گیا ہے؟ حضرت اقدس ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ایک صحابی نے یہ پوچھا تھا کہ اس وقت قرآن شریف کیسے اٹھا یا جاوے گا ؟ آپ نے اس کو یہ جواب دیا تھا کہ میں تو تجھے عقلمند سمجھتا تھا۔ یہی جواب میرا ہے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ قرآن شریف پر کوئی عمل نہیں کیا جاتا۔ اس کی حمایت اور حمیت کے لیے کچھ بھی سعی نہیں ہوتی ۔ قرآن شریف سے صوری اور معنوی اعراض کیا گیا ہے اس کے حقائق اور معارف اور اس کی تعلیم سے مسلمان بالکل بے خبر ہورہے ہیں ۔ اور کس طرح قرآن اٹھا یا جاوے گا ؟ توحید اور شرک کی حقیقت (ترک صاحب تو دو سوالوں کے بعد خاموش ہو گئے۔ پھر یہودی صاحب نے اپنے سوالات پیش کرنے شروع کئے۔) یہودی۔ یہودیوں میں بھی تو توحید موجود ہے۔ اسلام اس سے بڑھ کر کیا پیش کرتا ہے؟ حضرت اقدس ۔ یہودیوں میں توحید تو نہیں ہے۔ ہاں قشر التوحید بیشک ہے اور نراقشر کسی کام کا نہیں ہو سکتا۔ توحید کے مراتب ہوتے ہیں۔ بغیر ان کے توحید کی حقیقت معلوم نہیں ہوتی ۔ نرالا اله الا اللہ ہی کہہ دینا کافی نہیں یہ تو شیطان بھی کہہ دیتا ہے۔ جب تک عملی طور پر لا اله الا اللہ کی حقیقت انسان کے وجود میں متحقق نہ ہو کچھ نہیں۔ یہودیوں میں یہ بات کہاں ہے؟ آپ ہی بتا دیں ۔ توحید کا ابتدائی مرحلہ اور مقام تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول کے خلاف کوئی امر انسان سے سرزدنہ ہو اور کوئی فعل اس کا اللہ تعالیٰ کی محبت کے منافی نہ ہو۔ گو یا اللہ تعالیٰ ہی کی محبت اور اطاعت میں محو اور فنا ہو جاوے۔ اسی واسطے اس کے معنے یہ ہیں لَا مَعْبُودَ لِي وَلَا تَحْبُوبَ لِي وَ لَا مُطَاعَ لِي إِلَّا اللهُ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی میرا معبود ہے اور نہ کوئی محبوب ہے اور نہ کوئی واجب الاطاعت ہے۔ یا د رکھو شرک کی کئی قسمیں ہوتی ہیں ۔ ان میں سے ایک شرک جلی کہلاتا ہے دوسرا شرک خفی ۔ شرک جلی کی مثال تو عام طور پر یہی ہے جیسے یہ بت پرست لوگ بتوں، درختوں یا اور اشیاء کو معبود