ملفوظات (جلد 7) — Page 320
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۰ جلد ہفتم کیا تھا آخر بدکاری اور شراب خوری میں صرف ہوتا ہے اور وہ اولا د ایسے ماں باپ کے لیے شرارت اور بدمعاشی کی وارث ہوتی ہے۔ اولا د کا ابتلا بھی بہت بڑا ابتلا ہے۔ اگر اولاد صالح ہو تو پھر کس بات کی پروا ہو سکتی ہے۔ خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ (الاعراف: ۱۹۷) یعنی اللہ تعالیٰ آپ صالحین کا متولی اور متکفل ہوتا ہے۔ اگر بد بخت ہے تو خواہ لاکھوں روپیہ اس کے لیے چھوڑ جاؤ وہ بدکاریوں میں تباہ کر کے پھر قلاش ہو جائے گی اور ان مصائب اور مشکلات میں پڑے گی جو اس کے لیے لازمی ہیں۔ جو شخص اپنی رائے کو خدا تعالیٰ کی رائے اور منشا سے متفق کرتا ہے وہ اولاد کی طرف سے مطمئن ہو جاتا ہے اور وہ اسی طرح پر ہے کہ اس کی صلاحیت کے لیے کوشش کرے اور دعائیں کرے ۔ اس صورت میں خود اللہ تعالیٰ اس کا تکفل کرے گا۔ اور اگر بد چلن ہے تو جائے جہنم میں ۔ اس کی پروا تک نہ کرے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کا ایک قول ہے کہ میں بچہ تھا ، جوان ہوا ، اب بوڑھا ہو گیا میں نے متقی کو کبھی ایسی حالت میں نہیں دیکھا کہ اسے رزق کی مار ہوا اور نہ اس کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے دیکھا۔ اللہ تعالیٰ تو کئی پشت تک رعایت رکھتا ہے ۔ پس خود نیک بنو اور اپنی اولاد کے لیے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جاؤ اور اس کو متقی اور دیندار بنانے کے لیے سعی اور دعا کرو۔ جس قدر کوشش تم ان کے لیے مال جمع کرنے کی کرتے ہو اسی قدر کوشش اس امر میں کرو۔ خوب یا در ھو کہ جب تک خوب یا درکھو کہ جب تک خدا تعالیٰ سے رشتہ نہ ہو اور سچا تعلق اس کے ساتھ نہ ہو جاوے کوئی چیز نفع نہیں دے سکتی ۔ یہودیوں کو دیکھو کہ کیا وہ پیغمبروں کی اولاد نہیں؟ یہی وہ قوم ہے جو اس پر ناز کیا کرتی تھی اور کہا کرتی تھی نَحْنُ ابْنُوا اللهِ وَاحِبَّاؤُهُ (المائدۃ:19 ) ہم اللہ کے فرزند اور اس کے محبوب ہیں مگر جب انہوں نے خدا تعالیٰ سے رشتہ توڑ دیا اور دنیا ہی دنیا کو مقدم کر لیا کیا نتیجہ ہوا ؟ خدا تعالیٰ نے اسے سور اور بندر کہا۔ اور اب جو حالت ان کی مال و دولت ہوتے ہوئے بھی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔