ملفوظات (جلد 7) — Page 317
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۷ جلد ہفتم فرمایا ۔ ہم جائز نہیں رکھتے ۔ مومن ایسی مشکلات میں پڑتا ہی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ خود اس کا تکفل کرتا ہے۔ عذرات سے شریعت باطل ہو جاتی ہے۔ کون امر ہے جس کے لیے کوئی عذر آدمی نہیں تراش سکتا ہے۔ خدا سے ڈرنا چاہیے۔ کسی نے پوچھا بعض آدمی غلہ دقائق تقوی کی رعایت ضروری ہے کیا اسے چاہا کہ پی آی ال کی تجارت کرتے ہیں اور خرید کر اسے رکھ چھوڑتے ہیں جب مہنگا ہو جاوے تو اسے بیچتے ہیں۔ کیا ایسی تجارت جائز ہے؟ فرمایا ۔ اس کو مکروہ سمجھا گیا ہے۔ میں اس کو پسند نہیں کرتا۔ میرے نزدیک شریعت اور ہے اور طریقت اور ہے۔ ایک آن کی بد نیتی بھی جائز نہیں اور یہ ایک قسم کی بد نیتی ہے ہماری غرض یہ ہے کہ بدنیتی دور ہو۔ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی بابت لکھا ہے کہ آپ ایک مرتبہ بہت ہی تھوڑی سی نجاست جوان کے کپڑے پر تھی دھور ہے تھے۔ کسی نے کہا کہ آپ نے اس قدر کے لیے تو فتویٰ نہیں دیا۔ اس پر آپ نے کیا لطیف جواب دیا کہ آں فتویی است و ایں تقویٰ ۔ پس انسان کو دقائق تقویٰ کی رعایت رکھنی چاہیے سلامتی اسی میں ہے۔ اگر چھوٹی چھوٹی باتوں کی پروا نہ کرے تو پھر ایک دن وہی چھوٹی چھوٹی باتیں کبائر کا مرتکب بنا دیں گی اور طبیعت میں کسل اور لا پروائی پیدا ہو کر ہلاک ہو جائے گا۔ تم اپنے زیر نظر تقویٰ کے اعلیٰ مدارج کو حاصل کر نا رکھو اور اس کے لیے دقائق تقویٰ کی رعایت ضروری ہے۔ اسی طرح کہتے ہیں۔ ذوالنون مصری سے کسی نے پوچھا کہ چالیس مہر کی کیا زکوۃ دینی چاہیے۔ ذوالنون نے کہا کہ چالیس مہر کی زکوۃ چالیس مہر ۔ سائل اس جواب پر حیران ہوا۔ اور پوچھا کہ یہ کیوں؟ اس پر ذوالنون نے کہا کہ چالیس اس نے رکھی ہی کیوں؟ گو یا کیوں خدا کی راہ میں خرچ نہ کر دیں ۔ جمع ہی کیوں کیا ؟ شریعت سے ایسا ہی پایا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ کوئی محدث وعظ کرتا تھا۔ ایک صوفی نے بھی سنا اور اس کو کہا کہ محدث صاحب