ملفوظات (جلد 7) — Page 308
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۸ جلد ہفتم کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔ اس اتباع کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ پس اب اس آیت سے صاف ثابت ہے کہ جب تک انسان کامل متبع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں ہوتا وہ اللہ تعالیٰ سے فیوض و برکات پا نہیں سکتا اور وہ معرفت اور بصیرت جو اس کی گناہ آلود زندگی اور نفسانی جذبات کی آگ کو ٹھنڈا کر دے عطا نہیں ہوتی ۔ ایسے لوگ ہیں جو عُلماء امتی کے مفہوم کے اندر داخل ہیں ۔ غرض ایک طرف تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرمایا کہ إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ ( الكوثر : ۲) اور دوسری طرف اس امت کو کكُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ (ال عمران : کہا ۱۱۱) تا کہ یہودیوں پر ز د ہو۔ ہو مگر گا میرے مخالف عجیب بات کہتے ہیں کہ یہ امت با وجود خیر الامت ہونے کے پھر شر الامت ہے۔ بنی اسرائیل میں تو عورتوں تک کو شرف مکالمہ الہیہ دیا گیا مگر اس امت کے مرد بھی خواہ کیسے ہی متقی ہوں اور خدا تعالیٰ کی رضا جوئی میں مریں اور مجاہدہ کریں مگر ان کو حصہ نہیں دیا جائے گا اور یہی جواب ان کے لیے خدا کی طرف سے ہے کہ بس تمہارے لیے مہر لگ چکی ہے۔ اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور گستاخی اور اس پر سوء ظن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین اور اسلام کی ہتک کیا ہوگی ؟ دوسری قوموں کو ملزم کرنے کے لیے یہی تو زبردست اور بے مثل اوزار ہمارے ہاتھ میں ہے اور اسی کو تم ہاتھ سے دیتے ہو۔ پھر ایک اور بات قابل غور ہے اللہ تعالیٰ سلسلہ موسوی اور سلسلہ محمد یہ میں مشابہت نے دو سلسلے قائم کئے تھے۔ پہلا سلسلہ سلسلہ موسوی تھا۔ دوسرا سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ یعنی محمد گی سلسلہ۔ اور اس دوسرے سلسلہ کو مثیل ٹھیرایا۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مثیل موسیٰ کہا گیا تھا۔ توریت کی کتاب استثناء میں یہی لکھا گیا تھا کہ تیرے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی اٹھاؤں گا اور قرآن شریف میں یہ فرمایا اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا (المزمل : ۱۶) یعنی بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا جو تم پر شاہد ہے۔ اسی طرح یہ