ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 303

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۳ جلد ہفتم اور ایسا ایمان ہو جو لذیذ ہو ۔ اللہ تعالیٰ کے تصرفات اور اس کی قدرتوں اور صفات کی تجلی کو انسان مشاہدہ کرے اور اس کا ذریعہ بھی مکالمات و مخاطبات اور خوارق عادات ہیں۔ لیکن جب یہ دروازہ ہی بند ہو گیا تو پھر اس بعثت سے فائدہ کیا ہوا ؟ میں بڑے افسوس سے کہتا ہوں کہ ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہرگز ہرگز قدر نہیں کی اور آپ کی شان عالی کو بالکل نہیں سمجھا ورنہ اس قسم کے بیہودہ خیالات یہ نہ تراشتے ۔ اس آیت کے اگر یہ معنے جو یہ پیش کرتے ہیں تسلیم کر لیے جاویں تو پھر گویا آپ کو نعوذ باللہ ابتر ماننا ہو گا۔ کیونکہ جسمانی اولاد کی نفی تو قرآن شریف کرتا ہے اور روحانی کی یہ نفی کرتے ہیں تو پھر باقی کیا رہا؟ اصل بات یہ ہے کہ اس آیت سے اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ محضر لا الہ الہ سلم کی عظیم الشان آنحضرت کا کمال اور آپ کی قوت قدسیہ کا زبردست اثر بیان کرتا ہے کہ آپ کی روحانی اولا د اور روحانی تاثیرات کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ آئندہ اگر کوئی فیض اور برکت کسی کو مل سکتی ہے تو اسی وقت اور حالت میں مل سکتی ہے جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل اتباع میں کھویا جاوے اور فنافی الرسول کا درجہ حاصل کر لے بدوں اس کے نہیں۔ اور اگر اس کے سوا کوئی شخص ادعائے نبوت کرے تو وہ کذاب ہوگا ۔ اس لیے نبوت مستقلہ کا دروازہ بند ہو گیا اور کوئی ایسا نبی جو بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور ورزش شریعت اور فنافی الرسول ہونے کے مستقل نبی صاحب شریعت ہو، نہیں آ سکتا۔ ہاں فنافی الرسول اور آپ کے امتی اور کامل متبعین کے لیے یہ دروازہ بند نہیں کیا گیا۔ اس لیے براہین میں یہ الہام درج ہے كُلُّ بَرَكَةٍ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ - یعنی یہ مخاطبات اور مکالمات کا شرف جو مجھے دیا گیا ہے یہ محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کا طفیل ہے اور اسی لیے یہ آپ ہی سے ظہور میں آرہے ہیں ۔ جس قدر تاثیرات اور برکات وانوار ہیں وہ آپ ہی کے ہیں ۔ اب حضرت عیسی کے لیے تم خود فتوی دو کہ اس کے متعلق تم کیا سمجھتے ہو اور یقین کرتے ہو۔ کیا یہ