ملفوظات (جلد 7) — Page 275
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۵ جلد ہفتم ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا مقام تو یہ تھا کہ آپ محبوب الہی تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے دوسرے لوگوں کو بھی اس مقام پر پہنچنے کی راہ بتائی جیسا کہ فرما یا قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران : ۳۲) یعنی ان کو کہہ دو کہ اگر تم چاہتے ہو کہ محبوب الہی بن جاؤ تو میری اتباع کرو۔ اللہ تعالیٰ تم کو اپنا محبوب بنا لے گا ۔ اب غور کرو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع محبوب الہی تو بنا دیتی ہے۔ پھر اور کیا چاہیے؟ مگر اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ ہی کو شناخت نہیں کیا مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ (الانعام : ۹۲) - ایسا ہی شیعہ ہیں ۔ انہوں نے فقط اتنا ہی سمجھ لیا ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے لیے رو پیٹ لینا ہی نجات کے واسطے کافی ہے۔ یہ کبھی ان کو خواہش نہیں ہوتی کہ ہم امام حسین رضی اللہ عنہ کی اتباع میں ایسے کھوئے جاویں کہ خود حسین بن جاویں ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ اس وقت تک نجات نہیں جب تک انسان نبی کا روپ نہ ہو جاوے۔ وہ انسان جو اپنے مراتب اور مدارج میں ترقی نہیں چاہتا وہ مخنثوں کی طرح ہے۔ میں کھول کر کہتا ہوں کہ جس قدر ا نبیاء ورسل گزرے ہیں ان سب کے کمالات حاصل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے آنے کی غرض اور غایت ہی یہی تھی کہ لوگ اس نمونہ اور اسوہ پر چلیں ۔ موت وحیات مسیح کا مسئہ یہ امور ہیں جن کی وجہ سے ہم کو بدنام کیا جارہا ہے۔ موت، حیات مسیح کا مسئلہ تو یونہی راہ میں آگیا۔ بہت سے مصالح الہی تھے جو یہ مسئلہ پیش آگیا ورنہ اصل مقاصد اور اغراض ہماری بعثت کے اور ہیں ۔ ہاں یہ مسئلہ چونکہ تعلیم الہی کے خلاف تھا اور اس میں توحید کے مصفی چشمہ کو مکدر کرنے والے اجزا موجود تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا ازالہ کر دیا اور صاف کہہ دیا کہ سب نبی فوت ہو گئے ہیں۔ مسیح علیہ السلام میں کوئی ایسی خصوصیت نہیں جو دوسرے نبیوں کو نہ ملی ہو۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر گیا ہے لیکن میں یہ کبھی تسلیم نہیں کر سکتا کہ دوسرے نبی جسم کے بغیر آسمان پر گئے ہیں ۔ جس قسم کے جسم ان کو عطا ہوئے ہیں وہی جسم مسیح کو دیا