ملفوظات (جلد 7) — Page 271
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۱ جلد ہفتم نعماء جنت کیونکر ہوں گی اگر کہو کہ وہ نعتیں کیں کر ہوں گی؟ تو اس کا جواب صاف ہے۔ اللہ تعالیٰ خلق جدید پر قادر ہے۔ خود انسان کا اپنا وجود بھی خیالی ہے جس قطرہ سے پیدا ہوتا ہے وہ کیا چیز ہے؟ پھر خیال کرو کہ اس سے کیسا اچھا انسان بناتا ہے کیسے عقلمند، خوبصورت ، بہادر ۔ پھر وہی خدا ہے جو دوسرے عالم میں خلق جدید کرے گا۔ دیکھنے میں وہ لذات اور میوہ جات ہمرنگ ہوں گے لیکن کھانے میں ایسے لذیذ ہوں گے کہ نہ کسی آنکھ نے ان کو دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی زبان نے ان کو چکھا اور نہ وہ کسی خیال میں گزرے ۔ بہشت کی لذات کی کیفیت بہشت کی لذات میں ایک اور بھی خوبی ہے۔ دنیا کی لذتوں میں اور جسمانی لذتوں میں نہیں ہے۔ مثلاً انسان روٹی کھاتا ہے تو دوسری لذتیں اسے یاد نہیں رہتی ہیں ۔ مگر بہشت کی لذات نہ صرف جسم ہی کے لیے ہوں گی بلکہ روح کے لیے بھی لذت بخش ہوں گی ۔ دونوں لذتیں اس میں اکٹھی ہوں گی اور پھر اس میں کوئی کثافت نہ ہوگی اور سب سے بڑھ کر جو لذت ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا۔ مگر دیدار الہی کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہاں ہی سے طیاری ہو اور اس کے دیکھنے کے لیے یہاں ہی سے انسان آنکھیں لے جاوے۔ جو شخص یہاں طیاری کر کے نہ جاوے گا وہ وہاں محروم رہے گا۔ چنانچہ فرمایا مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلى (بنی اسراءیل : ۷۳) اس کے یہ معنی نہیں کہ جو لوگ یہاں نابینا اور اندھے ہیں وہ وہاں بھی اندھے ہوں گے۔ نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ دیدار الہی کے لیے یہاں سے حواس اور آنکھیں لے جاوے اور ان آنکھوں کے لیے ضرورت ہے تبتل کی۔ تزکیہ نفس کی اور یہ کہ خدا تعالیٰ کو سب پر مقدم کرو اور خدا تعالیٰ کے ساتھ دیکھو، سنو اور بولو۔ اسی کا نام فنافی اللہ ہے اور جب تک یہ مقام اور درجہ حاصل نہیں ہوتا نجات نہیں ۔ یہ ۔ پیدا کرنے کا ذریعہ ہاں یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کے یا کیا خدا تعالیٰ سے محبت پیدا ساتھ ایسا تعلق قومی اور محبت صافی تب ہو سکتی ہے جب اس کی ہستی کا پتہ لگے دنیا اس قسم کے شبہات کے ساتھ خراب ہوئی ہے۔ بہت سے تو