ملفوظات (جلد 7) — Page 265
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۵ جلد ہفتم حضرت عیسی علیہ السلام کے رفع الی السماء کی حقیقت اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا اصل منشا اور آنے کی غرض یہ نہیں کہ عیسی فوت ہو گیا ۔ یہ تو ایک سچائی تھی جو ہم نے پیش کی ۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہی ظاہر کیا۔ ہم نے اسی طرح اس کو دنیا کے سامنے پیش کر دیا ۔ ہمیں حضرت عیسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ایک رسول اور پیغمبر ہیں ۔ یہ کہتے ہیں کہ وہ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر نہیں گئے ہم کو ان کی تذلیل منظور نہیں مگر ہم کیا کریں اصل بات ہی یہ ہے جو امر ہم کسی نبی اور رسول کے لیے نہیں مانتے ہم کیونکر ان کے ساتھ اسے مختص کریں ۔ ہاں ہم کو بخل نہیں ہم تسلیم کرتے ہیں کہ جس جسم کے ساتھ دوسرے پیغمبر آسمان پر گئے ہیں۔ حضرت عیسی بھی اسی جسم کے ساتھ گئے ہیں ۔ مگر ان لوگوں کی غلطیوں اور خود تراشیدہ خیالات کو کیسے مان لیں ۔ یہ خوب یا د رہے کہ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر روح بلا جسم ہرگز نہیں مانتے۔ ہم مانتے ہیں کہ وہ وہاں جسم ہی کے ساتھ ہیں ۔ ہاں فرق اتنا ہے کہ یہ لوگ جسم عنصری کہتے ہیں اور میں کہتا ہوں کہ وہ جسم وہی جسم ہے جو دوسرے رسولوں کو دیا گیا ہے۔ دوزخیوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ (الاعراف: (۴۱) یعنی کافروں کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاویں گے اور مومنوں کے لیے فرماتا ہے مُفَتِّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ (ص: ۵۱) اب ان آیات میں لھم کا لفظ اجسام کو چاہتا ہے تو کیا یہ سب کے سب پھر اسی جسم عنصری کے ساتھ جاتے ہیں؟ نہیں ایسا نہیں ۔ جسم تو ہوتے ہیں مگر وہ وہ جسم ہیں جو مرنے کے بعد دیئے جاتے ہیں۔ ایسا ہی فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر : ۳۰ ،۳۱) بھی اجسام کو چاہتا ہے۔ پھر تیسری شہادت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیت ہے۔ معراج میں آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت یحییٰ کے ساتھ دیکھا وہاں آپ نے روحیں تو نہ دیکھی تھیں ۔ یعنی جسم صرف حضرت عیسیٰ کا ہو اور باقی نبیوں کی روحیں تھیں اور مسیح ہی کا جسم تھا۔