ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 19

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹ جلد ہفتم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کل لوگ مسلمان ہو گئے تھے؟ نہیں مگر وہی کہ جن کے حق میں سعادت تھی۔ پس ہمارا کام تو سمجھانا ہے۔ پس جو شخص مسیح کو زندہ مانتا ہے وہ جھوٹا ہے اور خدا کا منکر ہے اور جس کو خدا نے مامور کیا ہے اس کو تو تازہ علم اس کی وفات کا دیا ہے۔ پھر اگر انہوں نے مسیح کو ماننا نہیں تو وہ حکم کس بات کا ہوگا اور ہر ایک مذہب والا اس کا فیصلہ کس طرح مانے گا ؟ حکم گا؟ حکم کا لفظ تو صاف دلالت کر رہا ہے کہ ضرور ان لوگوں میں اختلاف اور اغلاط ہوں گے جن کا وہ آکر فیصلہ کرے گا۔ پس ہم تو تم سے سچا اتباع نبی کریم اور ترک اغلاط طلب کرتے ہیں اور بس۔ پس ہمارے لوگ ہمارے مخالفین سے سختی سے مخالفین سے نرمی کا سلوک ہونا چاہیے پیش نہ آیا کریں ۔ ان کی دوستی کا نرمی سے در سے جواب دیں اور ملاطفت سے سلوک کریں۔ چونکہ یہ خیالات مدت مدید سے ان کے دلوں میں ہیں رفتہ رفتہ ہی دور ہوں گے اس لیے نرمی سے کام لیں ۔ اگر وہ سخت مخالفت کریں تو اعراض کریں مگر اس بات کے لیے اپنے اندر قوت جاذبہ پیدا کرو اور قوت جاذ بہ اس وقت پیدا ہوگی جب تم صادق مومن بنو گے اور اگر تم صادق نہیں تو تمہاری نصیحت ایسی ہے جیسے پر نالہ کا پانی موجب فساد ہوتا ہے۔ پس صادق کے واسطے ورزش کی اشد ضرورت ہے۔ جیسے ایک پہلوان کے سامنے تمہاری کیا ہستی ہے کہ مقابلہ کر سکو۔ اگر چہ وہ بھی تمہارے جیسا آدمی تھا ۔ جسمانی نشو و نما میں اس نے ترقی اور ورزش کر کے یہ طاقت حاصل کی ۔ پس تم روحانی قومی میں ورزش کر کے روحانی پہلوان یعنی صادق مومن بنو۔ جو شخص اپنا نشو و نما نہیں کرتا وہ تو اپنے کنبہ کو بھی درست نہیں کر سکتا۔ پس قوت روحانی پیدا کرو۔ دیکھو! نبی رسول سب ایک ایک ہو کر ہی آئے ہیں مگر وہ صادق اور جاذب تھے ۔ مال کی غریبی اور کمزوری جدا چیز ہے۔ روحانی قوت ہونی چاہیے۔ ہاں کشش میں بھی وہی سعادت مند روحانی قوت کی ضرورت آتے ہیں جن کو کچھ مناسبت ہوتی ہے۔ مثلاً انجن اگر سرد ہے تو فائدہ نہیں دے سکتا ہے۔ اگر خوب گرم ہے تو سو گاڑی بھی لے جاوے گا۔ پس گرم اور پر تا ثیر مومن بنو۔