ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 260 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 260

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۰ جلد ہفتم کرے گا تو پھر اس کو اس وقت سخت افسوس اور حسرت ہوگی ۔ جب اس جہان سے رخصت ہو کر دوسرے عالم میں جانا پڑے گا اور وہاں اس کے لیے بجز دکھ اور درد کے اور کیا ہو گا؟ اس دنیا میں وہ اس دنیا کے ھم وغم میں مبتلا رہا اور اس عالم میں اس ھم و غم کے نتائج ہیں۔ جو شخص اس عالم کے ھم وغم میں مبتلا ہو رہا ہے موت کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے اور دوسرے علم کا اسے کوئی گھر بھی نہیں۔ فکر اگر اسے یکدفعہ ہی پیغام موت آجاوے تو خیال کرو اس کا کیا حال ہوگا ؟ موت تو ایک بازی گاہ ہے۔ ہمیشہ ناگاہ آتی ہے اور جسے آتی ہے وہ یہی سمجھتا ہے کہ میں تو قبل از وقت جاتا ہوں ۔ ایسا خیال اسے کیوں پیدا ہوتا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ چونکہ خیالات اور طرف لگے ہوئے تھے اور وہ اس کے لیے طیار نہ تھا۔ اگر طیاری ہو تو قبل از وقت نہ سمجھے بلکہ ہر وقت اسے قریب اور دروازہ پر یقین کرے۔ اس لیے تمام راستبازوں نے یہی تعلیم دی ہے کہ انسان ہر وقت اپنا محاسبہ کرتا رہے اور آزما تا ر ہے کہ اگر اس وقت موت آجاوے تو کیا وہ طیار ہے یا نہیں؟ حافظ نے کیا اچھا کہا ہے ۔ چو کار عمر نا پید است بارے آں اولی که روز واقعه پیش نگار خود باشم ان کا مطلب یہی ہے کہ ہر وقت طیار اور مستعد رہنا چاہیے۔ اور کسی وقت بھی اس طیاری سے بے فکر اور غافل نہ ہونا چاہیے ورنہ عذاب ہوگا۔ یہ بالکل صاف بات ہے کہ جو شخص ہر وقت سفر کی طیاری میں ہے اور کمر بستہ بیٹھا ہے۔ اگر یکا یک اسے سفر کرنا پڑے تو اسے کوئی تکلیف اور گھبراہٹ نہ ہوگی۔ لیکن اگر اس نے کبھی یہ خیال بھی نہیں کیا تو پھر ایسے موقع پر سخت گھبراہٹ کا سامنا ہوگا۔ ایک شاعر نے کیا اچھا کہا ہے۔ وَلَمْ يَتَّفِقُ حَتَّى مَطَى فِي سَبِيلِهِ وَكَمْ حَسَرَاتٍ فِي بُطُونِ الْمَقَابِرِ یعنی اس وقت تک اس امر سے اتفاق نہ کیا یہاں تک کہ کوچ کرنا پڑا تب اقرار کیا کہ بہت