ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 258

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۸ جلد ہفتم کے لیے عذاب کے رنگ میں ہو جاتی ہے۔ کبھی دوسرے کو مصیبت میں دیکھ کر خوش نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ وہ تو ایک عبرت کا مقام ہے۔ خود بھی اس کے لیے طیار رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ تسکین وہ ہے یہ بھی یاد رکھو کہ مصیبت کے زخم کے لیے کوئی مرہم ر ایسا تسکین دہ اور آرام بخش نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ روسہ کرنا ہے۔ جو جو شخص اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ سخت سے سخت مشکلات اور مصائب میں بھی اندر ہی اندر تسلی اور اطمینان پاتا ہے وہ اپنے قلب میں تلخی اور عذاب کو محسوس نہیں کرتا۔ نہایت کا راس مصیبت کا انجام یہ ہو سکتا ہے کہ اگر تقدیر مبرم ہے تو موت آجاوے۔ لیکن اس سے کیا ہوا ؟ دنیا کوئی ایسی جگہ تو ہے ہی نہیں جہاں کوئی ہمیشہ رہ سکے ۔ آخر ایک دن اور وقت سب پر آتا ہے کہ اس دنیا کو چھوڑنا پڑے گا۔ پھر اگر اسے موت آگئی تو ہر ج کیا ہوا ؟ مومن کے لیے تو یہ موت اور بھی راحت رساں اور وصالِ یار کا ذریعہ ہو جاتی ہے ۔ اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان اور اس کی قدرتوں پر بھروسہ کرتا ہے اور جانتا ہے کہ اگلا جہان اس کے لیے ابدی راحت کا ہے۔ پس نری مصیبت خواہ بیماری کی ہو یا کسی اور قسم کی تکلیف یا عذاب کا موجب نہیں ہو سکتی بلکہ وہ مصیبت دکھ دینے والا عذاب ٹھیرتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ پر ایمان اور بھروسہ نہ ہو۔ ایسے شخص کو البتہ سخت عذاب ہوتا ہے اور اگر کوئی یہ خیال کرے کہ موت ہی نہ آوے تو یہ خیال خام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کونا پائیدار قرار دیا ہے۔ ایسے شخص کے لیے دوسرے جہان میں سخت دردناک جہنم ہوگا جس کے لیے اسے طیار رہنا چاہیے۔ موت کی حقیقت موت ضرور آنے والی ہے اس سے کسی کو چارہ نہیں۔ یقینا سمجھو کہ ا پیالہ کے پینے سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ خدا تعالیٰ کے تمام برگزیدہ بندوں اور انبیاء و رسل کو بھی اس راہ سے گذرنا پڑا تو اور کون ہے جو بچ جاوے۔ حکیم اور فلاسفر جو سخت دل ہوتے ہیں ان کو بھی یہ بات سوجھ گئی ہے اور انہوں نے اعتراف کیا بلکہ موت کو ضروری سمجھا ہے۔