ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 232

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۲ جلد ہفتم نہیں ہے۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ اسلام بہت کمزور ہو گیا ہے اور پھر اس پر دوسری مصیبت یہ ہے کہ لوگ زکوۃ بھی نہیں دیتے۔ میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت دو مصیبتیں واقع ہو رہی ہیں اور دو حرمتیں روا رکھی گئی ہیں۔ اول یہ کہ زکوۃ جس کے دینے کا حکم تھا وہ دیتے نہیں اور سود جس کے لینے سے منع کیا تھا وہ لیتے ہیں۔ یعنی جو خدا تعالیٰ کا حق تھا وہ تو دیا نہیں اور جو اپنا حق نہ تھا اسے لیا گیا۔ لے جب ایسی حالت ہو رہی ہے اور اسلام خطرناک ضعف میں مبتلا ہے تو میں یہی فتویٰ دیتا ہوں کہ ایسے سودوں کی رقمیں جو بینک سے ملتا ہے یک مشت اشاعت دین میں خرچ کرنی چاہئیں ۔ میں نے جو فتوی دیا ہے وہ عام نہیں ہے ورنہ سود کا لینا اور دینا دونو حرام ہیں۔ مگر اس ضعف اسلام کے ا عام نہیں ہے ورنہ سود کا لینا اور دینا دونو حرام ہیں۔ زمانہ میں جبکہ مالی ترقی کے ذریعے پیدا نہیں ہوئے اور مسلمان توجہ نہیں کرتے ایسا روپیہ اسلام کے کام میں لگنا حرام نہیں ہے۔ قرآن شریف کے مفہوم کے موافق جو حرمت ہے وہ یہی ہے کہ وہ اپنے نفس کے لیے اگر خرچ ہو تو حرام ہے۔ یہ بھی یا درکھو جیسے سود اپنے لیے درست نہیں کسی اور کو اس کا دینا بھی درست نہیں۔ ہاں خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ایسے مال کا دینا درست ہے اور اس کا یہی طریق ہے کہ وہ صرف اشاعت اسلام میں خرچ ہو ۔ اس کی ایسی مثال ہے جیسے جہاد ہورہا ہو اور گولی بارود کسی فاسق فاجر کے ہاں ہو اس وقت محض اس خیال سے رک جانا کہ یہ گولی بارود مال حرام ہے ٹھیک نہیں ۔ ہے بلکہ مناسب یہی بدر سے اپنا جو حق نہ تھا وہ لیتے ہیں اور خدا کا جو حق تھا وہ بھی نہیں دیتے اور اس طرح اپنے اندر دو گناہ ایک ہی وقت میں جمع کرتے ہیں ۔“ ( بدر جلد نمبر ۲۶ مورخه ۲۹ رستمبر ۱۹۰۵ صفحه ۴) 66 ہے بدر میں یہ عبارت درج ہے ۔ اس کی مثال اس طرح سے ہے کہ گولی بارود کا چلانا کیساہی ناجائز اور گناہ ہولیکن جو شخص اسے ایک جانی دشمن پر مقابلہ کے واسطے نہیں چلاتا وہ قریب ہے کہ خود ہلاک ہو جائے۔ کیا خدا نے نہیں فرمایا کہ تین دن کے بھوکے کے واسطے سو ر بھی حرام نہیں بلکہ حلال ہے۔ پس سود کا مال اگر ہم خدا کے لیے لگا ئیں تو پھر کیونکر گناہ ہو سکتا ہے۔ اس میں مخلوق کا حصہ نہیں لیکن اعلائے کلمہ اسلام میں اور اسلام کی جان بچانے کے لیے اس کا خرچ کرنا ہم اطمینان اور ثلج قلب سے کہتے ہیں کہ یہ بھی فَلَا اثْمَ عَلَيْهِ (البقرۃ: ۱۷۴) میں داخل ہے۔ یہ ایک استثناء ہے۔ اشاعت اسلام کے واسطے ہزاروں حاجتیں ایسی پڑتی ہیں جن میں مال کی ضرورت ہے۔“ ( بدر جلد نمبر ۲۶ مورخه ۲۹ رستمبر ۱۹۰۵ء صفحه (۴)