ملفوظات (جلد 7) — Page 220
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۰ جلد ہفتم صفات کا سر و پا پوری طرح بیان کر سکیں اس کی وجہ یہ ہے کہ باقی تمام مذاہب خدا تعالیٰ کی کمال طاقتوں کے صفات سے منکر ہیں ۔ مثلاً آریہ کہتے ہیں کہ وہ کلام نہیں کرتا چپ ہے۔ عیسائیوں کا بھی یہی مذہب ہے اور وہ کہتے ہیں کہ وہ کسی کو نجات دینے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی کسی شخص کی تعریف کرے اور کہے کہ وہ ایسا خوبصورت ہے اور ایسا طاقتور ہے مگر بہرہ ہے سن نہیں سکتا اور گونگا ہے کچھ بولتا نہیں۔ چڑ چڑا ہے ہم کو نجات دینا نہیں چاہتا۔ بہشت میں بھیجتا ہے تو بھی ایک گناہ باقی رکھ لیتا ہے جس سے پھر جلد سانپ ، بچھو، کتے ، سؤر کی جون میں ڈال دیتا ہے۔ ان دینوں میں یہ برکت نہیں کہ انسان پاکیزگی حاصل کر کے خدا سے انا الموجود کی آواز کوئی سن سکے۔ اسی واسطے یہ لوگ غفلت کی تاریکی میں پڑے ہوئے ہیں ۔ مجاہدہ کی اہمیت فرمایا۔ جو او خدا کی راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں۔ سچی توبہ کے ساتھ اس کے آگے جھک جاتے ہیں ان کو خدا مل جاتا ہے مگر جو لوگ اس کے بتلائے ہوئے راہ پر نہیں چلتے اور اس میں محنت نہیں کرتے ان کے واسطے مشکل ہے کہ وہ اس بات کو پاسکیں۔ ایسے لوگوں کی مثال اس طرح ہے کہ ایک باپ نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ فلاں مقام میں ایک خزانہ دفن ہے اور وہ زمین کے اندر اتنے ہاتھ گہرائی پر ہے۔ جب تک اس کو کھودنے کی محنت نہ کی جاوے وہ کس طرح ان کو مل سکتا ؟! ۲۰ اگست ۱۹۰۵ء ۲۰ راگست کی صبح کو حضرت کے سر میں اٹھتے ہوئے ایک جگہ سے چوٹ لگی جس سے بہت خون نکلا اور تکلیف ہوئی ۔ اب بفضل الہی آرام ہے۔ فرمایا۔ ہر امر میں کچھ مصلحت الہی ہوتی ہے جو بعد میں معلوم ہوتی ہے۔ بدر جلد نمبر ۲۱ مورخه ۲۴ را گست ۱۹۰۵ صفحه ۲ بدر جلد ا نمبر ۲۰ مورخه ۱۷ راگست ۱۹۰۵ ء صفحه ۷