ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 214

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۴ جلد ہفتم پس نرے چھلکے پر کفایت کر لینا کافی نہیں ہے ایسی متاع چرائی جاسکتی ہے لیکن جو متاع حقیقی اسلام پیش کرتا ہے جو اس میں اور اس کے غیروں میں ما بہ الامتیاز ہے اسے کوئی چرا نہیں سکتا۔ یہ بات ہے جو ہم پیش کرتے ہیں کہ خدا موجود ہے اور اس کے امتیازی نشان ظاہر ہوتے ہیں۔ اسلام کے ثمرات اب بھی ایسے ہی ہیں۔ اگر کوئی ان پھلوں کو نہیں کھاتا تو اسلام کا کیا قصور؟ طبیب اگر ایک نسخہ بتا دے اور کوئی اسے استعمال نہ کرے تو اس میں طبیب کا تو کوئی قصور نہیں ہے۔ اسلام میں یہ ایسی نعمت ہے جو کسی اور دین میں نہیں مل سکتی ۔ اسی کی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا الیوم أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي ( المائدة : ۴) لیکن یہ نعمت نہیں مل سکتی جب تک اس طرف قدم نہ اٹھا وے اور افسوس کہ ہمارے مخالف اس نعمت کی طرف متوجہ نہیں !!! ۱۴ اگست ۱۹۰۵ء (دربار شام) شیخ عبد الحق صاحب آریہ نو مسلم نے اجازت چاہی۔ اس پر حضرت اقدس نے اولوالامرکون ہے فرما کہ کچھو اور وہ دین کی پی اور کا انسان کو مقدم ہونی چا۔ کچھ دن اور رہو۔ دین کی تپش اور تلاش انسان کو مقدم ہونی چاہیے۔ اس پر انہوں نے ذیل کا سوال کیا اس کا جو جواب حضرت اقدس نے دیا وہ بھی درج ہے۔ سوال ۔ اولوالامر سے کیا مراد ہے؟ بعض کہتے ہیں کہ ہر ایک مولوی اولوالامر ہے اور بعض کہتے ہیں کہ کوئی نہیں۔ جواب ( از حضرت اقدس ) ۔ اصل بات یہ ہے کہ اسلام میں اس طرح پر چلا آیا ہے کہ اسلام کے بادشاہ جن کے ہاتھ میں عنان حکومت ہے ان کی اطاعت کرنی چاہیے وہ بھی ایک قسم کے اولو الامر ہوتے ہیں۔ لیکن اصل اولو الامر وہی ہوتے ہیں جن کی زندگی پاک ہوتی ہے اور ایک بصیرت اور معرفت جن کو ملتی ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے امر پاتے ہیں یعنی مامورالہی ۔ بادشاہوں کے پاس حکومت ہوتی ہے وہ انتظامی امور میں تو پورا دخل رکھتے ہیں لیکن دینی امور الحکم جلد ۹ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ را گست ۱۹۰۵ صفحه ۴ تا ۶