ملفوظات (جلد 7) — Page 206
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۶ جلد ہفتم اس کی چھوٹی عمر میں مر جاوے اور کسی دوسری جگہ جنم لے کر اس کے ساتھ بیاہی جاوے تو اس کے روکنے کا کیا انتظام ہے؟ اور پھر تناسخ کے لیے یہ بھی ضروری ہوگا کہ جرائم کے انواع بھی تجویز کریں کیونکہ جس کثرت سے کیڑے مکوڑے پیدا ہوتے ہیں یہ سب جرائم ہی کی وجہ سے نہ ہوں گے؟ اور پھر ہر جون کا گناہ الگ چاہیے۔ اس کے قسم کے بہت سے اعتراض اس مسئلہ پر وارد ہوتے ہیں۔ سے ۱۳ راگست ۱۹۰۵ء (دربار شام) ایک نو مسلم صاحب رحیم آباد سے آئے ہوئے تھے۔ حضرت حکیم الامت نے ان کی زبانی بیان کیا کہ وہ پنڈت دیانند صاحب کے ساتھ سات سال تک رہے ہیں ۔ پھر خود نو مسلم صاحب نے بیان کیا لے بدر سے ۔ اس صورت میں یہ ضرور تھا کہ پرمیشر ایسا کرتا کہ ہر ایک شخص کے پیدا ہونے کے وقت اس کے گلے میں ایک لمبی فہرست لٹکی ہوئی ہوتی کہ فلاں فلاں مرد اور عورت کے ساتھ اس کا یہ رشتہ ہے ۔“ وو بدر میں ہے ۔ ایک نہیں ایسے ہزاروں اور بدر 66 ( بدر جلد ا نمبر ۲۰ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۵ صفحه ۳ و ۶ ) اعتراض تناسخ پر وارد ہوتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا عقیدہ رکھنا بھی ایک کم بختی ہے۔ برسات میں تھوڑی دیر میں لاکھوں کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں تو کیا برسات میں گناہ بہت کیا جاتا ہے؟ پھر جس قدر کیڑے مکوڑے اور حشرات الارض دنیا میں موجود ہیں زمین کے اندر اور زمین کے اوپر ہوا میں اور درختوں پر اور سمندر میں غرض جس قدر اقسام جانوروں کے ہیں چاہیے کہ اسی قدر اقسام گناہوں کے شمار کئے جائیں مثلاً گائے بہ نسبت کتے کے آرام میں ہے ۔ گائے کی ہندو پوجا بھی کرتے ہیں ۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گائے بنانے والا گناہ ایسا سخت نہیں جیسا وہ گناہ ہے جس کے ارتکاب سے انسان کتے کی جون میں ڈالا جاتا ہے۔ پس آریوں کے ذمہ ہے کہ جس قدر انواع جانداروں کے ہیں اسی قدر انواع گناہ کے ثابت کریں ۔“ سے الحکم جلد ۹ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ را گست ۱۹۰۵ ء صفحه ۴ وہ 66 ( بدر جلد نمبر ۲۰ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۵ ء صفحه (۶) ے بدر میں ہے۔ ” گیا سے ایک نو مسلم آئے ہیں ۔“ ( بدر جلد نمبر ۲۱ مورخه ۲۴ را گست ۱۹۰۵ صفحه ۲)