ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 204

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۴ جلد هفتم جاودانی عالم اور ابدی راحت موجود ہے۔ تو پھر یہ سوال ہی کیوں ہے؟ اگر یہ سوال ہے کہ بغیر تکلیف کے اس ابدی راحت میں داخل کر دے تو پھر کہیں گے کہ معاصی کا بکھیڑا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ بھی داخل کر سکتا تھا ۔ کے اس کا جواب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں نعنی بے نیاز ہے ۔ انسان کو نجات اور ابدی آسائش کے حصول کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا چاہیے۔ جب تک وہ تکالیف اور شدائد نہیں اٹھا تا راحت اور آسائش نہیں پاسکتا۔ یہ شدائد دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ ہیں جو انسان خود مجاہدات کرتا ہے اپنے نفس کے ساتھ جنگ کرتا ہے اور اس طرح پر اکثر تکالیف میں سے ہو کر گذرتا ہے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ قضاء و قدر خود اس پر کچھ تکالیف نازل کر دیتی ہے اور اس ذریعہ سے اسے صاف کرتی ہے ۔اس طریق میں بچہ اور انبیاء علیہم السلام کے نفوس قدسیہ ہوتے ہیں ۔ وہ بے گناہ اور معصوم ہوتے ہیں اس پر بھی مصائب اور شدائدان پر آتے ہیں وہ محض ان کی تکمیل اور ان کے اخلاق اور صدق و وفا کے اظہار کے لیے۔ انسان کے لیے سعی اور مجاہدہ ضروری چیز ہے اور اس کے ساتھ مصائب اور مشکلات بھی ضروری ہیں ۔ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (النجم : ۴۰) جو لوگ سعی کرتے ہیں وہ اس کے ثمرات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اسی طرح پر جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں اور نفس کی قربانی کرتے ہیں ان پر الہی قرب وانوار و برکات اور قبولیت کے آثار ظاہر ہوتے ہیں اور بہشت کا نقشہ ان پر کھولا جاتا ہے۔ یہ لوگ ہے اس راہ سے بے خبر ہیں اور ان انعامات سے بے بہرہ اس لیے ایسے گندے اور لے بدر سے ۔ اگر کوئی سوال کرے کہ خدا نے یہ مصائب کا سلسلہ کیوں رکھ دیا۔ وہ بغیر اس کے کسی کو بہشت میں داخل کر سکتا تھا تو یہ فضول سوال ہے۔ ہم خدا کی ایک سنت کو دیکھتے ہیں کہ وہ اس طرح سے جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں غنی ہے اور انسان کمزور ہے۔ اس نے انسان کے واسطے یہی رکھا ہے کہ یا تو وہ خود مجاہدات اور ریاضات سے ترقی کرتا ہے یا آسمانی قضاء و قدر اس سے یہ تکمیل کر دیتی ہے ۔“ 66 ( بدر جلد نمبر ۲۰ مورخه ۱۷ را گست ۱۹۰۵ ء صفحه (۳) ے بدر میں ہے ۔ ” آر یہ کمبخت اندھے ہی چلے آئے۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ دوسرا عالم بھی موجود ہے انسان خدا نہیں۔