ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 185

ملفوظات حضرت مسیح موعود حضرت نے فرمایا۔ ۱۸۵ جلد ہفتم بعض الہام بار بار کئی دفعہ ہوتے ہیں اور ہر دفعہ وہ جدا شان رکھتے ہیں اِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ اهانتك والا الهام بہت دفعہ ہوا ہے اور ہر دفعہ اس کا ظہور کسی نئے رنگ میں ہوا ہے۔ ہر دفعہ اہانت کنندہ اور اہانت یافتہ کوئی نیا وجود ہوتا رہا ہے۔ ایسا ہی الہام إِنِّي مَعَ الْأَفْوَاجِ آتِيكَ بَغْتَةً بہت کثرت سے ہوا ہے۔ اور ہمیشہ خدائی فوجوں کی نصرت سے ایک نیا معجزہ پیدا ہوا ہے۔ اسی طرح اکثر الہامات بار بار ہوتے ہیں اور ہر دفعہ کوئی نیا رنگ رکھتے ہیں۔ اسی طرح قرآن شریف میں بھی بہت سی آیات ہیں جو اپنے اپنے موقع پر جدا مطابقت رکھتی ہیں اگر چہ ظاہر الفاظ ایک ہی ہیں ۔ رچہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے کہ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنِ (الرحمن:۳۰) لیکن وہ مقامات کتب مجھے دکھانے چاہئیں جن پر یہ سوال پیدا ہوا ہے۔ حقیقت روح القدس کسی شخص کا سوال پیش ہوا کہ آپ نے جبریل کے متعلق جو تحریر کی ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کا خیال بھی سید احمد کی طرح ہے کہ روح الامین انسان کے اندر ہی ہے اور اس کے سوائے کوئی اور روح القدس اور جبریل نہیں ۔ فرمایا۔ یہ بالکل غلط ہے ۔ سید احمد کے ساتھ اس معاملہ میں ہمارے خیال کو کوئی مطابقت نہیں ۔ ہمارا منشا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے روح الامین کا نزول انسان پر اس وقت ہوتا ہے جبکہ انسان خود تقدس اور تطہیر کے درجہ کو حاصل کر کے اپنے اندر بھی ایک حالت پیدا کرتا ہے جو نزولِ روح الامین کے قابل ہوتی ہے۔ اس وقت گویا ایک روح الامین ادھر ہوتا ہے تب ایک اُدھر سے آتا ہے یہ بات ہم اپنے حال اور اپنے تجربہ سے کہتے ہیں نہ کہ صرف قال ہی قال ہے۔ اس کی بجلی کے ساتھ خوب مثال مطابق آسکتی ہے۔ جب کسی جسم میں خود بھی بھلی ہوتی ہے تو آسمانی بجلی اس پر اثر کرتی ہے۔ تدبر سے دیکھا جائے تو قرآن شریف سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ آج کل سخت گرمی پڑنے اور برسات کے نہ ہونے خلوت میں عبادات اور دعا کا لطف کا ذکر تھا۔ فرمایا۔ ایسے موقع پر نماز استسقاء کا پڑھنا سنت ہے۔ میں جماعت کے ساتھ بھی سنت ادا کروں