ملفوظات (جلد 7) — Page 177
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۷ جلد ہفتم کے واقعہ سے خدا تعالیٰ اپنے نام اور اپنی ہستی کو لوگوں پر ظاہر کرے گا۔ لے الہام کا دروازہ کھلا ہے فرمایا۔ جیسا ہمارے علاء کا عقیدہ ہے ہ اب الہام کا دروازہ بند ہے ہو گیا ہے۔ اگر یہ سچ ہوتا تو ایک عارف طالب تو زندہ ہی مرجاتا۔ خدا بخیل نہیں ہے اس نے خود صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحة:۷) کی دعا سکھائی ہے جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ ان نعمتوں کا دروازہ کھلا ہے ۔ افسوس ہے کہ مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کا بھی یہی مذہب تھا کہ ہم نہیں جانتے کہ ہمیں جو الہام ہوتا ہے وہ شیطانی یا الہامی سے ہے۔ ہمیں تعجب آتا ہے کہ ان لوگوں کا ایسے الہام اور اس عقیدہ کے بعد کیا حال ہوتا ہے۔ اگر اس پر عمل کریں تو ممکن ہے شیطان کے فرمان کی پیروی کرتے ہیں۔ اگر نہ کریں تو یہ شبہ ہے کہ خدا کو ناراض کرتے ہیں۔ یہی حال الہی بخش اکو نٹنٹ کے الہامات کا ہے۔ ان سے تو موسیٰ کی ماں ہی اچھی رہی جس نے خدا کے کلام پر ایمان قائم کر کے اپنے بچے کو دریا میں رکھ دیا۔ سے در بار شام) شام کی تاریکی قلمبند کرنے کی اجازت نہ دیتی تھی اس اجازت نہ دیتی تھی اس لیے میں نے خدا دا دقوت حافظہ کی مدد سے اپنے الفاظ میں اس روئداد کو لکھا ہے جو بزرگ اس اجلاس میں موجود تھے وہ اسے پڑھ کر انشاء اللہ سمجھ لیں گے کہ میں اس کے لکھنے میں بہت بڑی حد تک کامیاب ہوا ہوں ۔ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذلِكَ ( ایڈیٹر ) انبیاء کے کلام میں عجز وانکسار کا اظہار سلسلہ کلام اس امر ے شروع ہوا کہ تمام نیوں اور راستبازوں کے کلام میں عجز و انکسار کے الفاظ اور اپنی کمزوری کا اظہار پایا جاتا ہے اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے ۔ حضرت حجۃ اللہ علیہ الصلوۃ والسلام بدر جلد نمبر ۱۸ مورخه ۳ اگست ۱۹۰۵ء ۳ را گست ۱۹۰۵ ء صفحه ۲ نیز الگ ۲ نیز الحکم جلد ۹ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ را گست ۱۹۰۵ صفحه ۲ کے غالباً یہ لفظ الہی ہے جو کا تب کی غلطی سے الہامی“ لکھا گیا ہے۔ (مرتب) 66 سے بدر جلد نمبر ۱۸ مورخه ۳ اگست ۱۹۰۵ ء صفحه ۲