ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 175

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۵ جلد ہفتم حد دنیا پرستی کی وجہ دنیا پرستی کی ہوئی ہے۔ ہر دنیانی کا شیدائی نظرآتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جدھر آنکھ اٹھاتا ہے ابنائے دنیا ہی کو دیکھتا ہے۔ چونکہ ایسے مخلصوں کی نظیریں بہت ہی کم ہیں جو خدا تعالیٰ کے ساتھ کامل تعلقات کا نمونہ ہوں اس لیے اس طرف توجہ ہی نہیں۔ برخلاف اس کے دنیا پرستوں کی نظیر میں نظر آتی ہیں۔ اس لیے ہر شخص اسی طرف کو جھکتا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف بہت ہی کم لوگ آتے ہیں کیونکہ خدا کی راہ اختیار کرنا دنیا سے باہر ہو جانا ہے۔ جب تک انسان ایک موت اختیار نہیں کر لیتا اس راہ سے داخل نہیں ہو سکتا۔ او اسی لیے فرمایا ہے مُوْتُوا قَبْلَ أَنْ تَمُوتُوا - یکم اگست ۱۹۰۵ء (دربار شام ) سڑوعہ ضلع ہوشیار پور سے آئے ہوئے دو بھائی داخل بیعت ہوئے ۔ فرمایا۔ بیعت میں داخل ہونے والوں کے اسماء کو با قاعدہ لکھا جاوے۔ اگر یہ سب نام لکھے جائیں تو ان مشکلات کا سامنا نہ ہو جو بعض وقت پیش آتی ہیں ۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ایک خط کا ذکر ہوا جو انہوں نے مولوی محمد حسین بٹالوی نام لکھا ہے۔ منشی حسین بخش صاحب تحصیلدار پنڈی گھیپ حال رخصتی قادیان کے فرمایا ۔ معلوم نہیں وہ کون سی بدی تھی جس نے اس کو اس سلسلہ کی شناخت سے محروم رکھا۔ تاہم جب تک وہ زندہ ہے ہم اس پیشگوئی کی کوئی تاویل نہیں کرتے جو اس کے متعلق ہے کہ وہ آخر رجوع کرے گا۔ میں جانتا ہوں کہ اوائل میں وہ بڑا اخلاص ظاہر کیا کرتا تھا۔ بٹالہ کے سٹیشن پر خود اس نے حامد علی سے لوٹا لے کر مجھے وضو کرایا اور جب میں اٹھتا تو میرا جوتا اٹھا کر آگے رکھ دیتا تھا۔ اس میں دوسرے مولویوں کی نسبت ایک بات تو ہے وہ یہ کہ جب یہ کسی بات کو مان لے تو دلیری کے ساتھ الحکم جلد ۹ نمبر ۲۷ مورخہ ۳۱ جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ ۳