ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 169

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸ جولائی ۱۹۰۵ء لمس ۱۶۹ جلد ہفتم محترمه فا زمه فاطمه زوجہ حضرت خلیفہ مسیح الاول کا ذکر خیر حضرت مولوی نور الدین صاحب کی زوجہ کلاں جن کا نام فاطمہ تھا۔ بتاریخ ۲۸ جولائی ۱۹۰۵ء بروز جمعہ بعد از نماز جمعہ اس دار فانی سے رحلت فرما گئیں۔ مرحومہ کو حضرت مسیح موعود کے ساتھ سچا اخلاص اور ایمان تھا۔ مجھے کہا کرتی تھیں کہ یہ مولوی صاحب کا احسان ہے کہ ہم نے خدا کے مسیح کو شناخت کر لیا۔ لیکن اب تو میرے دل میں خدا کے رسول کی اس قدر محبت ہے کہ اگر کوئی بھی اس سے پھر جائے میں اس سے منہ نہیں پھیر سکتی۔ بعد از عصر مرحومہ کا جنازہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بمع جماعت کثیر باہر میدان میں پڑھا۔ نماز جنازہ میں دعا کو بہت ہی لمبا کیا۔ قبل از عشاء حضرت مسیح موعود کی مجلس میں حضرت نے خود ہی مرحومہ کا ذکر کیا۔ فرمایا۔ وہ ہمیشہ مجھے کہا کرتی تھیں کہ میرا جنازہ آپ پڑھائیں اور میں نے دل میں پختہ وعدہ کیا ہوا تھا کہ کیسا ہی بارش یا آندھی وغیرہ کا بھی وقت ہو میں ان کا جنازہ پڑھاؤں گا۔ آج اللہ تعالیٰ نے ایسا عمدہ موقع دیا کہ طبیعت بھی درست تھی اور وقت بھی صاف میسر آیا اور میں نے خود جنازہ پڑھایا۔ او عاجز نے عرض کی ان کی یہ بھی خواہش تھی کہ میری وفات جمعہ کے دن ہو ہو۔ فرمایا۔ ہاں وہ ایسا کہا کرتی تھیں ۔ خدا تعالیٰ نے یہ خواہش بھی ان کی پوری کر دی ۔ چند روز ہوئے ابھی ہم باغ میں تھے کہ وہ ایک دن سخت بیمار ہوگئیں اور قریب موت کے حالت پہنچ گئی تو کہنے لگیں کہ آج تو منگل ہے اور ہنوز جمعہ دور ہے اور ابھی عبدالحی کی آمین بھی نہیں ہوئی ۔ قدرت خدا اس وقت طبیعت بحال ہوگئی اور پھر خواہش کے مطابق عبدالحی کی آمین کی خوشی بھی دیکھی اور آخر جمعہ کا دن بھی پایا۔ لے حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ (مرتب)