ملفوظات (جلد 7) — Page 169
<mark>اس</mark> کی معرفت دنیا میں پھیلتی ہے لیکن جس زمانہ میں وہ مخفی ہوتا ہے <mark>اس</mark> زمانہ میں <mark>عابد</mark>وں کی عبادت اور <mark>زاہد</mark>وں کے زُہد بھی ادھورے اور نکمّے رہ جاتے ہیں۔یہ الہام براہین احمدیہ میں بھی درج ہے۔لیکن اب پھر <mark>اس</mark> کے خاص ظہور کا <mark>وقت</mark> معلوم ہوتا ہے۔<mark>اس</mark> و<mark>اس</mark>طے دوبارہ یہ الہام ہوا ہے۔باطنی عالم <mark>اس</mark>باب <mark>فرمایا</mark>۔دعا اور توجہ میں ایک روحانی اثر ہے جس کو طبعی لوگ جو صرف مادی نظر رکھنے والے ہیں نہیں سمجھ سکتے۔سنت اللہ میں دقیق در دقیق <mark>اس</mark>باب کا ذخیرہ ہے جو دعا کے بعد اپنا کام کرتا ہے نیند کے و<mark>اس</mark>طے طبعی <mark>اس</mark>باب رطو<mark>بات</mark> کے بیان کئے جاتے ہیں مگر بہت دفعہ آزمائش کی <mark>گئی</mark> ہے کہ بغیر رطو<mark>بات</mark> کے <mark>اس</mark>باب کے ایک نیند سی آجاتی ہے اور ایک <mark>حالت</mark> طاری ہوتی ہے جس میں سلسلہ الہامات کا وارد ہوتا ہے اور وہ بعض اوقات ایسا لمبا سلسلہ ہوتا ہے کہ انسان بار بار <mark>اپنے</mark> رب سے سوال کرتا ہے اور رب جواب دیتا ہے۔ایسا ہی بعض مادی لوگوں نے چند ظاہر <mark>اس</mark>باب کو دیکھ کر فتویٰ لگایا ہے کہ اب زلازل کا خاتمہ ہے اور دو سو سال تک یہاں کوئی زلزلہ نہیں آئے گا۔لیکن یہ لوگ در اصل اللہ تعالیٰ کے باریک رازوں اور <mark>اس</mark>باب سے بے خبر ہیں۔وہ ظاہر عالم <mark>اس</mark>باب کو جانتے ہیں لیکن <mark>اس</mark> کا ایک باطنی عالم <mark>اس</mark>باب بھی ہے۔؎ فلسفی گو منکر حنّانہ <mark>اس</mark>ت از حو<mark>اس</mark>ِ اولیاء بیگانہ <mark>اس</mark>ت <mark>اس</mark> جہاں کے لوگ جب فتنہ و فساد کی کثرت کو دیکھ کر <mark>اس</mark> کی اصلاح سے عاجز آجاتے ہیں <mark>تب</mark> اللہ تعالیٰ <mark>اپنے</mark> خاص بندوں کو ایسے قویٰ عطا <mark>کرتے</mark> ہیں جن کی توجہ سے سب کام <mark>درست</mark> ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ دعا کے ذریعہ سے عمریں بڑھ جاتی ہیں۔انبیاء خلقت کی ہدایت کے و<mark>اس</mark>طے بہت توجہ <mark>کرتے</mark> ہیں۔<mark>اس</mark>ی کی طرف قرآن شریف میں اشارہ ہے کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ (الکھف:۷) آنحضرتؐکو مخلوق کی ہدایت کا <mark>اس</mark> قدر غم تھا کہ قریب تھا کہ <mark>اس</mark>ی میں <mark>اپنے</mark> آپ کو ہلاک کر دیں۔ظاہری قیل و قال سے کچھ نہیں ہوتا۔اندرونی صفائی اور روحانیت کی ضرورت ہے۔۱