ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 156

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۶ جلد ہفتم کالڑ کا چند روز کی عمر پا کر فوت ہو چکا ہے۔ اس پر فرمایا۔ جو بچہ مرجاتا ہے وہ فرط ہے۔ انسان کو عاقبت کے لیے بھی کچھ ذخیرہ چاہیے۔ میں لوگوں کی خواہش اولاد پر تعجب کیا کرتا ہوں ۔ کون جانتا ہے اولادکیسی ہوگی ۔ اگر صالح ہو تو انسان کو دنیا میں کچھ فائدہ دے سکتی ہے اور پھر مستجاب الدعوات ہو تو عاقبت میں بھی فائدہ دے سکتی ہے۔ اکثر لوگ تو سوچتے ہی نہیں کہ ان کو اولاد کی خواہش کیوں ہے اور جو سوچتے ہیں وہ اپنی خواہش کو یہاں تک محدود رکھتے ہیں کہ ہمارے مال و دولت کا وارث ہو اور دنیا میں بڑا آدمی بن جائے ۔ اولاد کی و دول خواہش صرف اس نیت سے درست ہو سکتی ہے کہ کوئی ولد صالح پیدا ہو جو بندگانِ خدا میں سے ہو لیکن جو لوگ آپ ہی دنیا میں غرق ہوں وہ ایسی نیت کہاں سے پیدا کر سکتے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ خدا سے فضل مانگتا ر ہے تو اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔ نیت صحیح پیدا کرنی چاہیے۔ ورنہ اولا دہی عبث ہے۔ دنیا میں ایک بے معنی رسم چلی آتی ہے کہ لوگ اولاد مانگتے ہیں اور پھر اولاد سے دکھ اٹھاتے ہیں۔ دیکھو ! حضرت نوح کا لڑکا تھا کس کام آیا۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان جو اس قدر مراد میں مد نظر رکھتا ہے اگر اس کی حالت اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہو تو خدا اس کی مرادوں کو خود پوری کر دیتا ہے اور جو کام مرضی الہی کے مطابق نہ ہوں ان میں انسان کو چاہیے کہ خود خدا تعالیٰ کے ساتھ موافقت کرے۔ شافی مطلق ایک بیمار اور اس کے علاج کا ذکر تھا۔ فرمایا ۔ ہر ایک مرض اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلط ہوتا ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے مرض ہٹ جاتا ہے۔ ایمانداری ایک مد کے متعلق فنڈ کا تذکرہ تھا۔ فرمایا۔ خدا تعالیٰ سمیع و علیم ہے۔ اس سے دعا کرتے رہو خدا برکت دے گا۔ اس رمز کا سمجھنا ایمانداری ہے۔ بدر جلد نمبر ۱۱ مورخه ۱۵ جون ۱۹۰۵ صفحه ۲