ملفوظات (جلد 7) — Page 140
ملفوظات حضرت مسیح موعود لوگوں کو تشفی ہوگئی ۔ ۱۴۰ فرمایا ۔ لوگ منجم پرست ہیں ۔ خدا پرست نہیں ہیں ۔ سبحان اللہ کے معنی ایک شخص نے اپنا خواب سنایا کہ میں سبحان اللہ پڑھتا ہوں ۔ جلد ہفتم فرمایا۔ سبحان اللہ کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ خلاف وعدہ اور کذب اور دیگر تمام منقصتوں سے پاک ہے وہ اپنے وعدوں کو سچا کرتا اور پیشگوئیوں کو پورا کرتا ہے۔ ۱۶ رمتی ۱۹۰۵ء فرمایا ۔ سورہ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ میں زلزلہ کے واسطے صاف پیشگوئی ہے کہ زمین پر سخت زلزلہ آئے گا۔ اور زمین اندر کی چیزیں باہر نکال پھینکے گی ۔ فرمایا۔ قرآن شریف میں آیا ہے کہ پہاڑ زمین کی میخیں ہیں ۔ نادان پہاڑوں کی ساخت اعتراض کر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کیا بات ہے ۔ اس زلزلہ نے اس اعتراض کو بھی صاف کیا ہے۔ ان آتش فشانیوں اور زلزلوں کا موجب یہ پہاڑ ہی ہوا کرتے ہیں۔ جب پہاڑوں پر تباہی پڑتی ہے تو سب پر تباہی پڑتی ہے۔ پہاڑ امن یا بے امنی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ۱۷ رمتی ۱۹۰۵ء خوفناک معالج کے لئے ہدایت ایک ڈاکٹر صاحب کا ذکر آیا کہ انہں نے ایک پیار کو وفا بتایا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ تندرست ہے۔ فرمایا۔ یہ لوگ ایسی غلطیاں کھاتے ہیں۔ ہمارے مسلمان اطباء میں کیا عمدہ بات ہے کہ لکھا ہے کہ نبض دیکھنے سے پہلے طبیب یہ پڑھا کرے سُبحنَكَ لا عِلْمَ لَنَا ۔۔۔ الْحَكِيمُ تك (البقرة: ٣٣) ۱ ، ۲ بدر جلد نمبرے مورخہ ۱۸ رمئی ۱۹۰۵ ء صفحہ ۷ سے پوری آیت یہ ہے سُبحنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ( مرتب )