ملفوظات (جلد 7) — Page 96
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۶ جلد ہفتم خلوت کے بعد بچہ پیدا ہو جاوے تو لوگ اسے بیوقوف کہیں گے یا نہیں ؟ ؟ پھر جب دنیوی امور میں قانونِ قدرت کو اس طرح پر دیکھتے ہو تو یہ کیسی غلطی اور نادانی ہے کہ دینی امور میں انسان بلا محنت و مشقت کے کامیاب ہو جاوے۔ جس قدر اولیاء، ابدال، مرسل ہوئے ہیں انہوں نے کبھی گھبراہٹ اور بزدلی اور بے صبری ظاہر نہیں کی ۔ وہ جس طریق پر چلے ہیں اسی راہ کو اختیار کرو۔ اگر کچھ پانا ہے بغیر اس راہ کے تو کچھ مل نہیں سکتا۔ اور میں یقیناً کہتا ہوں اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ انبیاء علیہم السلام کو اطمینان جب نصیب ہوا ہے تو اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمُ (المؤمن : ۶۱) پر عمل کرنے سے ہی ہوا ہے۔ مجاہدات عجیب اکسیر ہیں سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے کیسے کیسے مجاہدات کئے ۔ ہندوستان میں جو اکابر گذرے ہیں جیسے معین الدین چشتی اور فرید الدین رحمہا اللہ ان کے حالات پڑھو تو معلوم ہو کہ کیسے کیسے مجاہدات ان کو کرنے پڑے ہیں ۔ مجاہدہ کے بغیر حقیقت کھلتی نہیں۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ فلاں فقیر کے پاس گئے اور اس نے توجہ کی تو قلب جاری ہو گیا۔ یہ کچھ بات نہیں۔ ایسے ہند و فقراء کے پاس بھی جاری ہوتے ہیں۔ توجہ کچھ چیز نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ساتھ تزکیہ نفس کی کوئی شرط نہیں ہے۔ نہ اس میں کفر و اسلام کا کوئی امتیاز ہے۔ انگریزوں نے اس فن میں آجکل وہ کمال کیا ہے کہ کوئی دوسرا کیا کرے گا۔ میرے نزدیک یہ بدعات اور محدثات ہیں ۔ شریعت کی اصل غرض تزکیہ نفس ہوتی ہے اور انبیاء علیہم السلام اسی مقصد کو لے کر آتے ہیں ۔ اور وہ اپنے نمونہ اور اسوہ سے اس راہ کا پتہ دیتے ہیں جو تزکیہ نفس کی حقیقی راہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی محبت دلوں میں پیدا ہو اور شرح صدر حاصل ہو۔ میں بھی اسی منہاج نبوت پر آیا ہوں ۔ پس اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ میں کسی ٹوٹکے سے قلب جاری کر سکتا ہوں یہ غلط ہے۔ میں تو اپنی جماعت کو اسی راہ پر لے جانا چاہتا ہوں جو ہمیشہ سے انبیاء علیہم السلام کی راہ ہے جو خدا تعالیٰ کی وحی کے ماتحت طیار ہوئی ہے۔ پس اور راہ وغیرہ کا ذکر ہماری کتابوں میں آپ نہ پائیں گے اور نہ اس کی ہم تعلیم دیتے ہیں اور نہ ضرورت سمجھتے ہیں ۔ ہم تو یہی بتاتے ہیں کہ نمازیں سنوار سنوار کر پڑھو